مجھے گورنر نے ہٹوایا ، فائلیں سامنے لا یا تو وہ عہدے پر نہیں رہیں گے سابق ڈپٹی کمشنر ٹو بہ ٹیک سنگھ

لاہور(ویب ڈیسک )سابق ڈپٹی کمشنر احمد خاور کمال کا چارج چھوڑنے سے قبل دکھ بھرا خط، اعلیٰ افسران کو لکھ دیا ، جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ میں نے اولڈ ایج ہوم کے دورے کو کسی بازاری سیاستدان کے دورے پر فوقیت دی، میں اپنا ڈپٹی کمشنر کا عہد ہ چھوڑ رہاہوں۔میرے کسی بھی سرکاری دفتر کا یہ آخری روز تھا، میں اولڈ ایج ہوم گیا، جہاں معاشرے کی بے حسی بھی دیکھی میں نے وہیں پر دوپہر کا کھانابھی کھایا، ان غریبوں کے ساتھ جن کو معاشرے نے ٹھکرادیا ہے۔ بزرگ عورتوں اور مردوں نے میر ے لئے آنسو بھی بہائے ،بزرگ عورتوں اور مردوں نے میرا ماتھا بھی چوما، اور مجھے بہت سارا پیار بھی دیا، احمد خاور شہزاد کا کہنا تھا کہ میری بیوی بچوں کے لئے بہت ساری دعائیں بھی دیں، میں نے آج پوری زندگی کا سرمایہ حاصل کر لیا ہے ، میں نے آج خدا کے حضور دعا کی کہ میں معاشرتی برائیوں کے خلاف پوری طرح سینہ سپر رہوں گا ، واضح رہے کہ ایک روز قبل وزیراعلی ٰنے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ڈپٹی کمشنر کو او ایس ڈی کیا تھا، روزنامہ دنیا کے مطابق احمد خاور شہزاد نے انکشاف کیا کہ پنجاب بدترین منافقوں کی سرزمین ہے ، سیاستدان انتہا کے کرپٹ ہیں، سیاستدانوں کی کرتوتوں کی فائلیں میرے پاس موجود ہیں جو اس وقت اہم عہدوں پر تعینات ہیں، اگر میں وہ سامنے لے آیا تو گورنر اور کئی افراد اپنے عہدوں پر نہیں رہیں گے ، گورنر پنجاب چودھری سرور کا بھائی ڈاکٹر رضوان اور بھانجا ڈاکٹر کشف ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تعلق رکھتے ہیں یہ گردے بیچنے کے سکینڈل میں پکڑے گئے تھے ، احمد خاور شہزاد کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر رضوان اور ڈاکٹر کشف نے کروڑوں روپے دیکر اپنی جان چھڑوائی ہے ، گورنر پنجاب چودھری سرور نے پریشر ڈالا کہ میں ان کے بھائی اور ان کے بھانجے کو اہم معاملات میں شامل کروں، یہاں پر کئی سیاستدانوں نے غلط کام کروانے کے لئے بھی دباؤ ڈالا ہے ، احمد خاور شہزاد نے کہاکہ انہوں نے پہلا سی پیک سیمینار کروایا ہے ،مار چ کے پہلے ہفتے میں 2لاکھ درخت لگانے جارہا تھا لیکن اب وہ منصوبہ ٹھپ ہو جائیگا، اسی طرح 16ہزار درخت بہت کم وقت میں لگاکر عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے ، اسی طرح ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بہت اچھے کام کئے ہیں، لیکن گورنر پنجاب چودھری سرور کے کہنے پر کسی کا تبادلہ کرنا اور پھر بیوروکریسی کو پریشر میں رکھ کر کام کروانا یہ مناسب رویہ نہیں ہے ، یہ انتہائی غیر مناسب رویہ ہے اور سیاستدان اس وقت انتہا کے کرپٹ ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے اور جلد سب کچھ عوام کے سامنے لاؤں گا۔ اس سلسلہ میں گورنر پنجاب سے متعدد بار رابطہ کیا گیا لیکن رابطہ نہ ہوسکا، گورنر ہاؤس ترجمان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب نے کبھی غیر قانونی احکامات نہیں دیئے ، تمام تر الزامات بے بنیاد ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں