تفضل رضوی کو جواب دینے کیلئے شعیب اخترنے قانون دان ابو ذرسلمان نیازی کی خدمات حاصل کر لیں

لاہور: (ویب ڈیسک) پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ باؤلر اور راولپنڈی ایکسپریس کہلانے والے شعیب اختر نے نے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا نوٹس موصول ہوا ہے اورمیں اس کا جواب دوں گا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ مجھے تفصل رضوی کا نوٹس مجھے موصول ہوا ہے جو جھوٹ اور من گھڑت بنیاد پر ہے۔ میں نے ابوذر سلمان نیازی کی خدمات بطور وکیل حاصل کی ہیں جو میری جانب سے اس نوٹس کا قانونی جواب دیں گے۔ تفضل رضوی کی نااہلیت اور ناقابل اطمینان کارکردگی پر میں اپنےالفاظ پر قائم ہوں ۔


واضح رہے کہ 3 روز قبل تفضل رضوی نے شعیب اختر کو عمراکمل پر تین سال کی پابندی کے ردعمل میں دیے گئے بیان کو ہتک آمیز قرار دیتے ہوئے 10 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس بھیج دیا تھا۔

پی سی بی کے قانونی مشیر تفضل رضوی کا کہنا تھا کہ کرکٹر شعیب اختر کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا اور ہتک عزت کا نوٹس بھجوا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 10 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سائبر کرائم ایکٹ کے تحت کارروائی کے لیے ایف آئی اے کو بھی درخواست دے دی ہے۔

تفضل رضوی نے کہا کہ شعیب اختر کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات جھوٹے ہیں اور ان کے غیر ذمہ دارانہ بیان سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق فاسٹ باؤلر کا سوشل میڈیا پر بیان پاکستان کے علاوہ بیرون ممالک بھی دیکھا گیا اس لیے بیرون ممالک کی عدالتوں میں بھی ان کے خلاف مقدمہ دائر کروں گا۔

اپنی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں پی سی بی کا قانونی مشیر ہوں اور پی سی بی کے لیگل ڈپارٹمنٹ سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

قبل ازیں شعیب اختر نے اپنے تجزیے میں کہا تھا کہ عمراکمل پر انہوں نے 3 سال کی پابندی عائد کی جس پر الزام یہ ہے کہ آپ نے وقت پر آگاہ نہیں کیا اور وقت پر بتاتے تو پابندی میں کمی ہوسکتی تھی۔

پی سی بی کے لیگل ڈپارٹمنٹ پر بات کرتے ہوئے سابق فاسٹ باؤلر کاکہنا تھا کہ پی سی بی کا لیگل ڈپارٹمنٹ بہت ہی نالائق اور گرا ہوا ڈپارٹمنٹ ہے جس میں خاص طور پر تفضل رضوی ہیں جو پتہ نہیں کہاں سے آجاتا ہے۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کے تعلقات بڑے اچھے ہیں اور کہیں نہ کہیں سے گھس کے آجاتا ہے اور 10، 15 سال سے پی سی بی کے ساتھ لگاہوا ہے اور ماشااللہ کوئی ایسا کیس نہیں ہے جو انہوں نے اب تک ہارا نہیں ہو جس کی مثال میرا ایک کیس بھی ہے ۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ اسٹار کی عزت ہونی چاہیے، اس کا نام صدیوں چلتا ہے اور یہ دو ٹکے کے وکیل آتے جاتے رہتے ہیں جن کو ان کے گھر والے بھی صحیح طرح نہیں جانتے اور عدالتیں بھی نہیں جانتیں لیکن ہمارے کیسز لے کر اپنا نام بناتے ہیں ۔

تفضل رضوی سے لوگوں کو خبردار کرتے ہوئے شعیب اختر نے کہا تھا کہ یہ مجھ سے، شاہد آفریدی اور دیگر کئی کیسز ہارا ہوا ہے لیکن یہ ہمیشہ کیس کو الجھاتا ہے اور پیسے بناتا رہتا ہے جبکہ پی سی بی کھلاڑیوں سے الجھا رہتا ہے ۔

دوسری جانب تفضل رضوی نے قانونی نوٹس میں کہا تھا کہ میرا خاندان چوتھی نسل سے وکالت سے منسلک ہے اور میں پاکستان، امریکا اور فرانس سے فارغ التحصیل ہوں۔ میں نے آج تک ہزاروں مقدمات نمٹائے ہیں اور پروفیشنلزم پر سمجھوتہ نہیں کیا اسی لیے اکثر میرے مخالفین بعد میں مجھ سے مشاورت کرتے ہیں۔

شعیب اختر کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ آپ بھی 2000 کے وسط میں پیشہ ورانہ تجاویز کے لیے میرے پاس آئے تھے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ میرے کئی کلائنٹس میں سے ایک ہے جس کے لیے میرے کیس جیتنے کی شرح 99 فیصد ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں