تیرا ابا آنڈے دیندا سی؟؟؟

کہے دیتا ہوں اس بار الیکشن سیاسی جماعتوں کے بجائے آزاد امیدواروں کے درمیان ہوگا، بلکہ اگر کہوں یہ الیکشن سیاسی جماعتیں بمقابلہ آزاد امیدوار ہے تو غلط نہ ہوگا۔ بس ڈر یہ ہے کہ الیکشن کے بعد لوٹوں کی قیمت مزید بڑھ جائے گی۔
وہ تو خیر الیکشن سے پہلے بھی مان نہیں تھے۔ الیکشن کے بعد مسلم شاور کی کوئی حقیقت نہیں رہے گی۔
دعا یہ ہے کہ الیکشن کے بعد کوئی آزاد حکومت نہ بن جائے۔ خیر ہماری دعا سے زیادہ اس کی فکر اداروں کو ہونی چاہئے۔ لیکن لگتا ایسا ہے کہ اگر آزادوں کی بڑی تعداد اسمبلیوں میں پہنچ گئی تو ہمارے قائد جمہوریت اور قائد عوام ثانی آصف زرداری کی پوں باراں ہو جائے گی۔ جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ زرداری صاحب کے پاس تین کانے ہیں، غلط سمجھ رہے ہیں۔ لڈو چاہے سیاسی ہو، کپتان اگر تین چھکے ایک ساتھ ماریں گے تو تینوں سڑ جائیں گے، اور ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ جس طرح وہ کریز سے باہر نکل نکل کر کھیل رہے ہیں، کہیں کسی گگلی پر سٹمپ نہ ہو جائیں، کیونکہ وہ کریز سے اتنا باہر نکل کر کھیل رہے ہیں کہ ایمپائر بھی انہیں ناٹ آؤٹ قرار نہیں دے سکے گا۔ ویسے بھی لڈو میں ہم نے ننانوے پر پہنچ کر سانپ سے ڈسوا کر زیرو پر آتے دیکھا ہے۔ لہٰذا سانپ اور سیڑھی کا قصہ وہی رہے گا بس کہانی میں تھوڑا سا ٹوئسٹ ضرور آئے گا۔

تماشا پسند قوم اس جمہوری عمل میں ایسے ہی شریک ہوگی جیسے ویاہوں میں بن بلائے باراتی۔ سنتا سنگھ بولا میری فیملی میری شادی نہیں ہونے دیتی۔ بنتا بولا، فیملی میں کون کون ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں