پاکستان کا وہ علاقہ جہاں لڑکی پسند آجائے تو اس کے گھر کے باہر فائرنگ کرکے رشتہ مانگا جاتا ہے

وزیرستان(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی ثقافت پھولوں کی اس مالا کی طرح ہے جس میں کئی اقسام کے پھول لگے ہوتے ہیں۔ یہاں ہر علاقے کی ثقافت اور رسوم و روایات اپنی ہی دلکشی رکھتی ہیں۔ملک کے دیگر حصوں کی طرح وزیرستان بھی اپنی منفرد ثقافت کا حامل علاقہ ہے۔یہاں کی شادیاں انتہائی خوبصورت رسوم و روایات کی حامل ہوتی ہیں جن سے ہم دیگر علاقوں کے پاکستان تاحال ناآشنا ہیں۔ انگریزی اخبار ایکسپریس ٹربیون کی رپورٹ کے مطابق وزیرستان میں شادی کی رسومات ایک غیرتحریری رسمی قانون کے تحت ہوتی ہیں۔ اس قانون کو وزیرولا یا وزیرقانون کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانے سے یہاں کے قبائل اس قانون کی پاسداری کا عہد کیے ہوئے ہیں اور اسی کے تحت اپنی زندگیاں گزارتے ہیں۔ذیل میں وزیرستان میں شادیوں کی منفرد رسومات کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔

رشتے کی تلاش

اس قانون کے تحت لڑکا اپنے والدین کی مرضی کے بعد کسی بھی دوسرے خاندان کی لڑکی کے ہاں شادی کا پیغام بھجوا سکتا ہے۔ اگر لڑکی راضی ہو تو لڑکا اس کے دروازے کے سامنے جا کر ہوائی فائرنگ کرکے اس کا رشتہ مانگتا ہے ۔ اس رسم کو علاقائی زبان میں ”زاغ پہ وکا“ کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر لڑکی رشتے سے انکار کر دے اور لڑکا اس پر مصر رہے اور اس کے گھر کے باہر فائرنگ کر دے تو پھر ایک بڑا خون خرابہ ہو سکتا ہے۔

منگنی کے قوانین

ایک بار جب لڑکا اپنے لیے دلہن منتخب کر لیا ہے تو شادی کی رسومات کا ایک سلسلہ چل نکلتا ہے۔سب سے پہلے منگنی ہوتی ہے جسے مقامی زبان میں ”لوسنےوائی“ کہا جاتا ہے۔لڑکے اور لڑکی کے خاندان مل کر ایک تاریخ مقرر کرتے ہیں اور اس تاریخ پر عموماً کسی مارکیٹ میں منگنی کی رسم ہوتی ہے۔ منگنی کی رسم پر بھی لڑکے والوں کی طرف سے فائرنگ کی جاتی ہے جو یہاں کی رسم ہے۔

شادی کے ملبوسات

وزیرستان میں دلہنیں جو لباس پہنتی ہیں اسے ”گانر کھٹ“ کہا جاتا ہے۔یہ پر کشیدہ کاری کا بھاری کام کیا گیا ہوتا ہے۔اگرچہ لڑکے اور لڑکی دونوں کے خاندان دلہن کے لیے لباس تیار کرتے ہیں تاہم توقع کی جاتی ہے کہ لڑکے والوں کا لباس بہت عمدہ اور خاص ہوگا کیونکہ لڑکے والوں کی طرف سے آنے والا یہ لباس دلہن شادی کے روز پہنتی ہے۔دلہن کے لیے تیار ہونے والے یہ لباس دونوں خاندانوں کی خواتین مل کر تیار کرتی ہیں اور ساتھ ہی علاقائی گیت بھی گاتی ہیں۔جب یہ ملبوسات تیار ہو جاتے ہیں تو ان کی نمائش تیار کی جاتی ہے۔ اس موقع پر بھی گیت سنگیت اور رقص ہوتا ہے۔اس ملبوسات کی نمائش کی رسم کو ”سہدڑا“(Sahdarra)کہتے ہیں اور یہ عموماًپیر یا منگل کے ادا کی جاتی ہے۔

شادی

سہدڑا کے تین دن بعد شادی شروع ہوتی ہے۔ لڑکے والے لڑکی کے گھر آتے ہیں۔ ان کی آمد پر لڑکی والے ان پر مختلف رنگوں والے پانی کا چھڑکاؤ کرتے ہیں اور ان کو کنکریاں مارتے ہیں۔یہ رسم لڑکی کے وداع ہونے پر لڑکی والوں کے دکھ اور تکلیف کی عکاسی کرتی ہے۔اس کے بعد پوری رات دونوں خاندان مل کر جشن مناتے ہیں جس میں گیت گائے جاتے ہیں اورآگ کے ایک بڑے الاﺅ کے گرد روایتی رقص کیا جاتا ہے۔ اس رات کے رقص و سنگیت کو ”براگئی اتن“ (Baragai Attan)کہا جاتا ہے۔ اگلے روز لڑکی والوں کی طرف سے ایک بڑی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان تمام رسومات اور جشن میں دولہا شریک نہیں ہوتا۔ وہ اس اپنے گھر پر ہی رہتا ہے اور اپنے گھروالوں اور دلہن کی آمد کا انتظار کرتا ہے۔

زندگی کی نئی شروعات

جب لڑکے والے دلہن کو لے کر اپنے گھر آ جاتے ہیں تو اسے اپنے سسرال کے گھر میں ایک کمرے میں تین دن کے لیے بٹھا دیا جاتا ہے۔ اس دوران رشتہ داروں کی بڑی تعداد آتی ہے اور دلہن سے ملتی ہے۔ ان تین دنوں میں دلہن اپنے شوہر کے خاندان سے مانوس ہو جاتی ہے۔ان تین دنوں میں لڑکے والوں کا ہر رشتہ دار دلہن کو مل سکتا ہے تاہم لڑکے کو اپنی دلہن کو دیکھنے کی اجازت نہیں ہوتی۔ تیسرے روز دلہن کوگاؤں کی دیگر لڑکیوں کے ساتھ کنویں سے پانی بھرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔اسی روز شام کے وقت نکاح خواں کو بلایا جاتا ہے اور دلہا دولہن کا نکاح پڑھوا دیا جاتا ہے۔اس کے بعد دولہا دلہن کو ایک دوسرے کو دیکھنے کی اجازت مل جاتی ہے اور یوں شادی اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔

ایک قبیلے کے سربراہ گل بادشاہ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”شادی کی رسومات اور جشن پورے گاؤں کی زندگیوں میں خوشی لاتا ہے۔ گردش ایام کے دھندلکے میں اب ہماری یہ خوبصورت رسومات دھندلا سی گئی ہیں اور رہی سہی کسر سکیورٹی صورتحال نے پوری کر دی ہے۔ اب یہ رسومات ہمارے دیہی علاقوں میں ہی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ اب شہروں میں شادیاں انتہائی خاموشی سے ہونے لگی ہیں۔اب لڑکے والے دن کے وقت ”گانر کھٹ“ لے کر جاتے ہیں اور چائے پی کر واپس آ جاتے ہیں۔ پہلے گانر کھٹ رات کے وقت لیجایا جاتا تھا اور رات بھر جشن ہوتا تھا۔ شدت پسندی کی اس لہر کے باعث ہماری کئی طرح کی شادی کی رسومات اب دم توڑ چکی ہیں۔ اب ہم ایک نئے وزیرستان میں سانس لے رہے ہیں۔ ہماری شادیوں کی تقریبات اس خوشی اور رنگینی سے محروم ہو چکی ہیں۔ ہمارے ماضی کی خوبصورتی کہیں گم ہو چکی ہے۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں