پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان قلمبند کرنے کیلئے ایک رکن کو قطر بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے قائم جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کا بیان قلمبند کرنے کیلئے ایک رکن کو قطر بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔
جے آئی ٹی نے پاناما کیس میں وزیر اعظم نوازشریف کی جانب سے منی ٹریل کے حوالے سے سپریم کورٹ میں پیش کردہ قطری خط کے خالق شہزادہ حما د بن جاسم کا بیان قلمبند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے ایک رکن 6جولائی کو قطر جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کے رکن چھ جولائی کو قطر کیلئے روانہ ہونگے اور شہزادے حما د بن جاسم سے بیان ریکارڈ کریں گے۔ ان سے شریف خاندا ن کی منی ٹریل کے حوالے سے سوالات بھی کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق کل مریم نواز کی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد حماد بن جاسم کیلئے سوالنامہ تیار کیا جائے گا اور چھ جولائی کو انکا بیان قلمبند کیا جائے گا۔
خیال رہے جے آئی ٹی نے حماد بن جاسم کو اپنے 2خطوط کے حوالے سے جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہونے کیلئے سمن جاری کیے گئے تھے جن کے جواب میں انہوں نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی انکا بیان لینے کیلئے قطر آسکتی ہے۔ حماد بن جاسم نے یہ بھی کہا تھاکہ وہ پاکستانی قوانین کے پابند نہیں اور نہ ہی جے آئی ٹی یا سپریم کورٹ کے بلانے پر پاکستان آنے کے پابند ہیں۔ ان کے اس موقف کے بعد جے آئی ٹی نے چھ جولائی کو قطر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
جے آئی ٹی نے پاناما لیکس کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ 10جولائی کو سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہے ، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو قطری خط کی حقیقت کا پتہ لگانے کی ہدایت کی تھی۔
واضح رہے کہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی آصف کرمانی کئی بار واضح کر چکے ہیں کہ اگر قطری شہزادے کا بیان رپورٹ میں شامل نہ کیا گیا تو اس رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔انہوں نے کہاتھا کہ قطری شہزادے نے ہمارے حق میں گواہی دی ہے اس لیے ان کا بیان ریکارڈ کرنا بہت ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں