سانحہ احمد پور شرقیہ کے دوران جھلس کر جاں بحق ہونے والے کم و بیش 125 افراد آگ کے ساتھ ساتھ خوراک کی کم یابی، لاغر و نحیف و نزار کمزور جسم اور قوتِ مدافعت کی کمی کے باعث موت کی آغوش میں چلے گئے

لاہور (ویب ڈیسک) سانحہ احمد پور شرقیہ کے دوران جھلس کر جاں بحق ہونے والے کم و بیش 125 افراد آگ کے ساتھ ساتھ خوراک کی کم یابی، لاغر و نحیف و نزار کمزور جسم اور قوتِ مدافعت کی کمی کے باعث موت کی آغوش میں چلے گئے۔ ان میں باڈی پروٹین 60 فیصد کم تھی اور جسمانی کمزوری کی وجہ سے وہ آگ سے لگے زخموں سے جنگ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ اس امر کا انکشاف جناح ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو اور علامہ اقبال میڈیکل کالج کے پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر محمد راشد خان نے ’’پاکستان‘‘ کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ اس موقع پر جناح ہسپتال کے برن یونٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر معظم تارڑ بھی موجود تھے۔ جناح ہسپتال میں قائم کردہ سٹیٹ آف دی آرٹ برن یونٹ کے مختلف شعبوں کا دورہ اور وہاں مریضوں کی دی جانے والی سہولیات کا مشاہدہ بھی کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر راشد خان کا کہنا تھا کہ سانحہ احمد پور شرقیہ کے 23 مریض ملتان سے لاہور شفٹ کئے گئے تھے جنہیں میں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ عید کے روز لاہور ایئر پورٹ پر ریسیو کیا یہ مریض C130 کے ذریعے لاہور پہنچے تھے میں نے 30 ڈاکٹرز اور نرسوں کی ٹیم کے ہمراہ 1122 ایمبولینسوں پر انہیں اپنے برن یونٹ میں شفٹ کیا ہم نے عید کا سارا دن ان مریضوں کے ساتھ گزارا۔ 9 نومبر 2014کو ایک انڈیپینڈنٹ یونٹ کے طور پر بنائے گئے جناح برن سنٹر کو 16 مئی 2016کو مکمل طور پر فعال بنایا گیا تھا۔ جہاں جلے اور حادثے کا شکار مریضوں کا جدید طریقوں سے علاج کیا جاتا ہے یہاں 78 بیڈ سٹیٹ آف دی آرٹ سسٹم کے تحت بنائے گئے ہیں جبکہ یہ پاکستان میں سب سے بڑا ماڈرن برن سنٹر ہے جہاں علاج کی تمام سہولیات ون ونڈو کے تحت ہی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ احمد پور شرقیہ کے جھلسے ہوئے جو افراد یہاں لائے گئے وہ تمام 90 فیصد سے زائد جل چکے تھے 25 ہزار لٹر پھیلا ہوا تیل سمیٹتے ہوئے لوگوں کی اکثریت کوئلہ بن چکی تھی ان میں سے اکثر تو ایسے لگتے تھے جیسے موت کی بھٹی میں جل کر آئے ہوں۔ ان میں سے بیشتر کی جلد کی تینوں تہیں مکمل جل چکی تھیں۔ ایک بھی مردہ یا زخمی ایسا نہیں تھا جس کا ڈی این اے ٹیسٹ لیا جاسکتا ہو ہم نے ہڈی کا گودا نکال کر ان کا ڈی این اے کروایا۔ ان میں سے 95 فیصد کی شناخت ہی ممکن نہیں تھی۔ ہمار ے پاس آنے والے سارے مریض اس قدر کمزور تھے کہ ان کا علاج تو درکنار درد کم کرنا بھی مشکل معلوم ہوتا تھا۔ ان کے ساتھ آنے والے اٹینڈنٹ بھی کمزور جسموں کے مالک تھے جس سے محسوس ہوتا تھا کہ جس مقام پر سانحہ ہوا وہاں کے رہائشی خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔ ہم نے مریضوں کے ساتھ ساتھ ان کے تیمار داروں کیلئے بھی خوراک کا مناسب بندوبست کیا۔ چھ پی ایچ ڈی ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ساتھ ساتھ پاکستان ایئر فورس کے ماہرین اور میرے ساتھ شعبے کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر معظم تارڑ نے دن رات ایک کرکے مریضوں کی دیکھ بھال کی جو 23 مریض آئے تھے ان کی حالت تشویشناک ہی نہیں ابتر بھی تھی ان میں سے 13 دم توڑ گئے ایک کو صحت یاب کرکے ڈسچارج کردیا گیا 9اب بھی زیر علاج ہیں جن کا ہر ممکن علاج کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر راشد خان کا کہنا تھا کہ ہم نے امریکہ سے سکن منگوا کر مریضوں کی جلد پر ایک تہہ چڑھائی یہ جلد امریکہ کی ایک این جی او نے فراہم کی تھی۔ یہ انسانی جلد کے ٹکڑے تھے جنہیں جدید طریقے پر محفوظ بنایا گیا ہے ہم نے یہ جلد ملتان ہسپتال بھی بھجوائی جبکہ باقی محفوظ کرلی ہے۔ یہ جلد امریکی باشندے وصیت کے تحت اپنی زندگی میں عطیہ کر جاتے ہیں۔ ہم نے نیوٹریشنسٹ سے مریضوں کے جسموں کی ڈیمانڈ کے مطابق خوراک کا چارٹ بنوایا ہے جلے ہوئے مریض کو ویسے بھی بھوک زیادہ لگتی ہے۔ جناح ہسپتال کے سربراہ نے کہاکہ ہم نے آپریشن تھیٹرز میں ہیٹر لگا کر ان مریضوں کا علاج کیا تاکہ باڈی ٹمپریچر اور روم ٹمپریچر کا توازن برقرار رہے۔ اس دوران ڈاکٹرز نرسیں اور عملہ پسینے میں شرابور ہوتا رہا۔ برن یونٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر معظم تارڑ کا کہنا تھا کہ برن سنٹر علامہ اقبال میڈیکل کالج کا ایک خود مختار ادارہ ہے جو جناح ہسپتال کے انتظامی امور سے الگ ہے یہ سنٹر 1 ارب 40 کروڑ روپے کے اخراجات سے قائم کیا گیا جبکہ اس کے سالانہ رننگ اخراجات 48 کروڑ روپے بنتے ہیں۔ 534 افراد پر مشتمل عملہ یہاں خدمات انجام دے رہا ہے جن میں 76 ڈاکٹرز 90 نرسیں اور باقی پیرا میڈیکل سٹاف ہے۔ جلے ہوئے، حادثات کا شکار یا کینسر زدہ مریض جناح ہسپتال کی ایمرجنسی میں آتے ہیں جہاں سے ہم انہیں سکرین کرکے اپنے یونٹ میں شفٹ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 50 سال کا کوئی شخص اگر 40 فیصد جل جائے تو بچنے کے 10 فیصد امکانات ہوتے ہیں اگر دھواں یا آگ پھیپھڑوں میں چلی جائے تو زندگی بچنے کا 1 فیصد امکان بھی نہیں رہتا اور اگر کوئی معجزہ ہوجائے تو الگ بات ہے۔ ہم اس سنٹر میں صرف فریش مریض لیتے ہیں جسے جلے ہوئے 24 گھنٹوں سے زائد نہ گزرے ہوں۔ درد ختم کرنے کے لئے مریض کو فوری طور پر میڈی کیٹڈ کمبل میں لپیٹا جاتا ہے لیکن یہ کمبل ایمبولینسز میں ہونے چاہئیں جو کہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ جلے مریض کو ٹھنڈک کی ضرورت نہیں ہوتی اسے فوری طور پر پانی میں ضرور ڈبونا چاہئے لیکن پھر ہسپتال میں ہیٹر کے ساتھ رکھنا چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں