برازیل سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اور آلات کی خریداری کا عمل شروع کر دیا

دوحہ (ویب ڈیسک ) سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ریاستوں کی جانب سے سفارتی تعلقات کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظر قطری حکومت نے ممکنہ عوامی بغاوت کے خدشے کو سامنے رکھتے ہوئے اسلحہ اور آلات کی خریداری شروع کر دی۔
’’العربیہ ‘‘ کا دعویٰ ہے کہ قطری حکومت نے ممکنہ عوامی بغاوت کے خدشے ، مظاہروں اور ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے برازیل سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اور آلات کی خریداری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ قطر نے حال ہی میں برازیل کی ایک کمپنی کے ساتھ مظاہروں کو منتشر کرنے کے لیے استعمال ہونے والے آلات اور اسلحہ کی ڈیل کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر اور برازیلی کمپنی کے درمیان بہت بڑی ڈیل ہوئی ہے۔ فریقین کے درمیان اسی طرح کے مزید سودوں کا بھی امکان موجود ہے۔ قطری حکومت نے عوامی مظاہروں کو کچلنے کے لیے آلات اور اسلحہ کی خریداری کسی بھی ممکنہ عوامی بغاوت کے پیش نظر شروع کی ہے کیونکہ دوحہ کی خارجہ پالیسی کے باعث اس کے معاشی اور سفارتی بائیکاٹ پر عوام حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوسکتے ہیں۔
یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ حکومت کی خارجہ پالیسی بالخصوص دہشت گرد گروپوں کی حمایت و معاونت پر قطری عوام میں حکومت کے خلاف سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔ قطری عوام حکومت کی دوسرے ملکوں کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی کے سخت خلاف ہیں۔ خدشہ ہے کہ کسی بھی وقت دوحہ سرکار کے خلاف اس کی عوامی اٹھ کھڑی ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی بیرونی کارروائی کی صورت میں ترک فوجی دوحہ حکومت کا دفاع نہیں کریں گے۔ اس کی ایک وجہ قطر میں امریکی فوجی اڈے کی موجودگی بھی شامل ہے اور قطر کے موجودہ سفارتی بائیکاٹ کے موقف میں امریکا بھی بائیکاٹ کرنے والے ملکوں کے ساتھ ہے۔
علاوہ ازیں قطر میں ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی موجودگی کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں اور کہا جا رہا ہے قطر نے اہم تنصیبات اور شاہی محل کے دفاع کے لیے پاسداران انقلاب کی معاونت حاصل کی ہے تاہم قطر ان الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں