جارج فلائیڈ کی ہلاکت میں ملوث 3 ملزمان کی ضمانت منظور، مظاہروں میں 10 افراد ہلاک

واشنگٹن: (سٹی نیوز) امریکا میں سیاہ فام شہری کی ہلاکت پر عوام میں غم وغصہ ابھی بھی پایا جاتا ہے، جارج فلائیڈ کے وکیل کا کہنا ہے نسل پرستی کی وبائی بیماری ان کی موت کا سبب بنی، سیاہ فام شہری کی یاد میں نیویارک میں بڑی تقریب منعقد کی گئی، ہلاکت میں ملوث تین ملزمان کی ضمانت بھی منظور کر لی گئی۔

سیاہ فارم شہری جارج فلائیڈ کی پولیس اہلکار کے ہاتھوں ہلاکت، نیویارک میں شہری کی یاد میں بڑی تقریب منعقد کی گئی۔ معروف سیاہ فام سماجی رہنما ریو الشرٹن نے کہا ہے کہ یہی وقت ہے کہ کھڑے ہو کر کہا جائے کہ اپنے گھٹنے ہماری گردنوں سے ہٹاؤ۔

جارج فلائیڈ کے وکیل کا کہنا ہے نسل پرستی کی وبائی بیماری ان کی موت کا سبب بنی۔ ہلاکت میں ملوث تین ملزمان کی ضمانت بھی منظور کر لی گئی۔ مختلف شہروں میں احتجاج کے دوران ہلاک افراد کی تعداد دس ہو گئی، پورے ملک میں مظاہروں سے 10 ہزار افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں سے 86 فی صد کا تعلق امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن سے ہے۔ احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 3 ہزار سے افراد کی رہائی کے لیے لاس اینجلس میں قائم کردہ آن لائن فنڈ میں 20 لاکھ ڈالر کی رقم بھی جمع ہوچکی ہے۔

مختلف شہروں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ لوٹ مار روکنے کیلئے نیشنل گارڈز تعینات کر دئیے گئے جبکہ اہم عمارتوں کی سکیورٹی فوج کے حوالے کر دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں