آرمی ایکٹ میں ترمیم، چودھری برادران بھی مولانا فضل الرحمان کو منانے میں ناکام

اسلام آباد: (سٹی نیوز) مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ حمایت میں تو ووٹ نہیں دیں گے، البتہ مخالفت میں ووٹ دینے یا غیر جانبدار رہنے پر غور کر رہے ہیں۔ آئندہ کی قانون سازی پر کیس ٹو کیس دیکھیں گے۔

ذرائع کے مطابق جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سروسز چیفس کی مدت ملازمت کے قوانین پر چودھری برادران کو کورا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مفاہمت ہر جگہ اور ہر وقت نہیں چلتی۔

مولانا فضل الرحمن میڈیا ٹاک کے پروگرام کے بغیر کیمروں کے سامنے آئے اور کہا کہ آپ سب کو پتا ہے چودھری برادران کیوں آئے تھے، مگر ہم اس قانون کو ووٹ نہیں دیں گے۔

اپوزیشن کی تقسیم پر مولانا فضل الرحمن نے اعتراف کیا اور بتایا کہ انہوں نے شہباز شریف کو فون کرکے شکوہ کیا ہے کہ ن لیگ کی طرف سے اپوزیشن کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس پر انہوں نے اب رابطے کرنے کا کہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسودہ قانون میں بہت سے ابہام ہیں جس پراختلافات موجود ہیں، جس عجلت کیساتھ قانون سازی کی جا رہی ہے، اس سے مزید ابہام پیدا ہونگے۔ حکومت نے مسودہ قانون پر اپوزیشن سے بات چیت کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا۔

ہم اپنے موقف پر قائم ہیں۔ اگر 6 ماہ میں قانون پاس ہو سکتا ہے تو اسمبلی بھی تحلیل کی جا سکتی ہے اور نئے الیکشن بھی کرائے جا سکتے ہیں۔ چودھری برادران کو موقف سے آگاہ کر دیا، نئی پارلیمنٹ منتخب کرکے بھی قانون سازی کرائی جا سکتی ہے۔ اپوزیشن کو مل بیٹھ کر موقف اختیار کرنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں