لے پالک

تحریر طارق حفیظ بزمی
نوازشریف وہ لے پالک ہے جسے فوج نے گود لے کر پال پوس کر کروڑ پتی بنایا نوازشریف کا ایک مسئلہ ہے وہ بہت مغرور اور متکبر شخص ہے، پنجابی میں کہتے ہیں نوکر کی تے نخرہ کی مطلب نوکروں کو غرور زیب نہیں دیتا نوازشریف سمجھتا ہے کہ اسکی بساط برادری ازم، مذہبی ووٹ، طاقت، دھونس، پر قائم ہے جبکہ یہ اسکا وہم ہے نوازشریف کی طاقت کسی وقت میں فوج کا منظورِ نظر ہونا تھا اسکے علاوہ اس میں کوئی اہلیت نہیں تھی منظورِ نظر بھی صرف اس لیے تھا کہ اس وقت بھٹو کو پھانسی دینے کے بعد آمر ضیاء الحق کو اپنی ساری اسٹیبلشمنٹ طاقت کے بل پر ایک ایسا “عوامی” بندہ آگے لانا تھا جو اتنا طاقتور بنے کہ پیپلزپارٹی کا مقابلہ کرسکے اور فوج کے آگے لیٹتا بھی ہو، نواز بھرپور طریقے سے فوج کے آگے لیٹا لیکن جب سے اس نے خود کو “کچھ” سمجھنا شروع کیا اور امیرالامومنین بننے کے خواب دیکھنا شروع کیے “باس” نے اسے اسکی اوقات پر لانے کی ٹھان لی، پچھلے پانچ سال نوازشریف نے فرعون کی طرح گزارے گویا اسے زوال آ ہی نہیں سکتا یہ اسکا ماننا تھا لیکن ایسا ہرگز نہیں جن اصولوں پر نون لیگ بنائی گئی تھی وہ اصول اور گُر نوازشریف کی نہیں بلکہ “باس” کے ذہن کی پیداوار تھے اب جب نوازشریف ملک، قوم، معیشت، سب کے لیے سیکیورٹی رسک بن گیا ہے تو باس نے اسے اکھاڑ پھینکنے کی ٹھان لی، اور میں سمجھتا ہوں جب تک اس ملک کی عوام نہیں سدھرتی یعنی جب تک ہماری قوم کی اکثریت اپنے اچھے برے کی تمیز نہیں سمجھ لیتی ملک خلائی مخلوق کے حوالے ہی رہے تو بہتر ہے کیونکہ ایک فوجی جرنیل بہت سے غلط فیصلے کرسکتا ہے لیکن کبھی بھی ملک سے غداری نہیں کرسکتا، ایوب، ضیاء، مشرف تینوں نے درجنوں غلط فیصلے کیے لیکن ان میں سے کوئی بھی غدارِ وطن نہیں تھا یہاں تک کہ پاکستان کی تاریخ پر ایک کلنک یعنی یحیٰ خان جو اپنے آپ میں ایک رنگیلا صدر تھا اور اسکی وجہ سے پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان بھی پہنچا لیکن وہ بھی بظاہر غدار نہیں بلکہ نااہل تھا،
بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ خلائی مخلوق کی انٹینشن ملک کا مفاد ہی ہوتی ہے بیچ میں کہیں کہیں کوئی غلطی ہو جانا فطری بات ہے، اور پھر فوج مداخلت کیوں نا کرے؟ ملک کی معیشت تباہ ہو جائے تو فوج خود بخود تباہ ہو جائے گی، جب ملک ہی ڈانواں ڈول ہوگا تو فوج کیسے طاقتور رہے گی؟
کامل جمہوریت نافذ کرنے کا حل صرف اور صرف یہ ہے کہ ہماری قوم کی سوچ تبدیل ہوجائے، اس وقت ہماری قوم انتخاب یا جمہوریت کے قابل ہی نہیں ہم فیوڈل ایج میں جی رہے ہیں، اور آپ بھی جانتے ہوں گے کہ فیوڈل ایج میں حکومت صرف طاقتور کی ہوتی ہے اس لیے ہر علاقے کا صرف طاقتور شخص حکومت میں آسکتا ہے ہمارے ملک میں چونکہ سب سے زیادہ طاقتور فوج ہے اس لیے حکومت بنانے میں اسکی منشاء بھی شامل رہتی ہے، اگر ہمارے سیاست دان کم از کم بھارتی سیاستدانوں جتنے قابل بھی ہوں تو فوج خود ہی اس جھنجھٹ سے خود کو نکال لے گی، کیا ہم اس وقت ایسی کوئی چار قومی لیڈر بھی دکھا سکتے ہیں جو محبِ وطن ہوں؟
نوازشریف؟ اسفند یار؟ فضل الرحمان؟ زرداری؟ الطاف؟ کیا انکو مکمل طاقت دینے کا سیدھا مطلب ملک کی تباہی نہیں؟
اسی لیے میں فوج کے سیاست میں کردار کے مخالف نہیں بلکہ موجودہ صورتحال میں اسکے حق میں ہوں، لیکن ساتھ ہی ساتھ ایوب خان کے فاطمہ جناحؒ کو سازشوں کے تحت ذلیل کروانے، ضیاء کے اپنے ہی ملک میں پراکسیز چلانے اور مشرف کے این آر او کرنے جیسے اقدامات کے شدید خلاف بھی ہوں، باقی کوئی ملک ایسا نہیں جہاں ایجنسیوں کا حکومتیں بنانے میں کردار نہیں ہوتا؟ کیا مودی صرف عوامی حمایت پر وزیراعظم ھند بنا؟ کیا سعودی عرب میں بادشاہت سعودی ایجنسیوں کے بغیر چل رہی ہے؟ کیا ایران میں تھیوکریٹ حکومت ایرانی ایجنسیوں کے کردار سے خالی ہے؟ کیا اردگان ترک ایجنسیوں کی مکمل حمایت کے بغیر ہی مسلمانوں کا تصوراتی خلیفہ بنا ہوا ہے؟ اور کیا ٹرمپ سی آئی اے کی منشا کے بغیر ہی صدرِ امریکہ بن گیا، کیا انگلینڈ میں ایم آئی چھ کا کوئی کردار نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ یہ سب ملک جو میں نے گنوائے انکی ایجنسیاں اور سیاستدانوں کی اکثریت ہم نظریہ اور محب وطن ہے جبکہ ہمارے ہاں ایسا نہیں ہر دوسرا سیاستدان اتنا کرپٹ ہے کہ اسکے لیے ملکی نظریہ و ملکی مفاد گیا تیل لینے. اکثر کہتا ہوں بھارت میں بھی کرپٹ سیاستدان ہیں اور پاکستان میں بھی لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ بھارت کا کرپٹ سیاستدان دیش بھگت ہے اور پاکستان کا کرپٹ سیاستدان مکمل بے غیرت اور غدار ہے، اس لیے پاکستان میں ایجنسیوں پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں، اور یقین کریں اگر اس ملک میں ایجنسیاں اور فوج ایک طاقتور ادارے کے طور پر نا ہوں تو کے پی کو الگ کرکے اسفند یار افغانستان میں ضم کردے، مری، بگٹی اور خان آف قلات مل کر بلوچستان کو الگ ملک بنا دے اور آزاد کشمیر میں جے کے ایل ایف والے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگا رہے ہوں، سندھ سندھو دیش بن جائے پیچھے بچنے والے پنجاب کو الگ ملک بنا کر نوازشہباز امیرالامومنین بن بیٹھیں، یہ اس ادارے کی ہی برکات ہیں کہ یہ ملک اب تک تباہ نہیں ہوا ورنہ جس درجے کے ہمارے لیڈر ہیں یہ آپسی صلاح مشورے سے ہی یہ ملک بانٹ لیتے، ۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں