اسٹبلشمنٹ و سیاستدانوں کی مجرمانہ غفلت اور ہوس اقتدار کے باعث متحدہ پاکستان کیسے ٹوٹ گیا؟

لاہور(ایف ایل)سقوط ڈھاکہ کے زخم ابھی تک تازہ ہیں۔یہ سانحہ کیسے رونما ہوااور اسٹبلشمنٹ و سیاستدانوں کی مجرمانہ غفلت اور ہوس اقتدار کے باعث متحدہ پاکستان کیسے ٹوٹ گیا ،اس المیہ پر ابھی تک بحث بھی ہورہی ہے ۔ اس سانحہ کے بہت سے عینی شاہد بھی موجود ہیں جو ایوان اقتدار میں سقوط ڈھاکہ کے اسباب بنتے دیکھتے رہے۔ سابق بیوروکریٹ روائیداد خان اہم ترین عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں ،انکے خیال میں جنرل یحییٰ خان نے متحدہ پاکستان کو توڑنے میں بنیادی کردار ادا کیا ۔انہوں نے ایک جریدے کو دئیے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے یہ یقین ہے کہ اگر ملک میں مارشل لا نہ ہوتا تو ملک کسی صورت دو حصوں میں تقسیم نہ ہوتا۔ اگر جمہوریت ہوتی تو ملک نہ ٹوٹتا۔ دونوں حصوں کے سیاسی رہنما اس کا کوئی نہ کوئی حل نکال لیتے۔ وہ یہ واقعہ نہ ہونے دیتے۔ فوجی تو صرف گن کو جانتے ہیں۔وہ کسی اور چیز سے واقف نہیں ہوتے۔ میں یحییٰ خان کو ملک ٹوٹنے کی اولین ذمہ داری دیتا ہوں، اْس کے بعد بھٹو اور تیسرے نمبر پر مجیب ، اس کے ذمہ دار ہیں۔ اْس سارے معاملے میں بھٹو کا کردار مددگار انہ نہیں تھا۔ اس کا کردار جمہوری نہیں تھا۔ وہ اپوزیشن لیڈر بننے کیلئے تیار نہیں تھے۔ بھٹو نے کہا تھا کہ مجھے مرکزی کردار نہیں ملتا متحدہ پاکستان میں، تو پھر پاکستان کو تقسیم ہو جانا چاہئے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ بھٹو کے سا تھ ساتھ فوج بھی مجیب الرحمن کے تحت کام کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔ آرمی اور بھٹو کے ایک سے مفادات تھے۔ ان کو خطرہ تھا کہ مجیب الرحمن بنگالی ہے، غالب آجائے گا، ہر طرح کے آرڈر پاس کرے گا۔ جی ایچ کیو کو راولپنڈی سے ڈھاکا منتقل کر دے گا۔ پھر ہم کیا کریں گے؟ افسوس یہ ہے کہ پھر انہوں نے مشرقی پاکستان سے جان چھڑوائی۔بنگلہ دیش بنا ہی اس وجہ سے کہ ہم نے جان چھڑوائی۔ ہم نے صرف مشرقی پاکستان ہی نہیں کھویا ، ایک طویل تہذیب کھو دی تھی۔ سقوط ڈھاکا کے وقت یہاں اور وہاں کے عوام بہت دْکھی تھے۔ جب سقوطِ ڈھاکا ہوا ، میں یحییٰ کے پاس گیا اور کہا ’’ سقوط ڈھاکا تو ہو چکا ہے ، مگر جنگ ابھی تھمی نہیں ہے، ہمیں لڑنا چاہیے‘‘۔ مجھے یحییٰ نے کہا ’’ چھوڑو ، ان کالے بنگالیوں کی خاطر ہم مغربی پاکستان کو خطرے میں کیوں ڈال دیں۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں