سابق صدر کا بھتیجا بھی حوثی باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا

صنعاء (ویب ڈیسک) یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت اور حوثی رہنماء کی لاش دینے سے انکار کے بعد خاندان کے لیے ایک اور پریشان کن خبرآگئی ہے اور سابق صدر کا بھتیجا بھی حوثی باغیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔

عرب میڈیا کے مطابق یمن کے مقتول صدر علی عبداللہ صالح کے بھتیجے اور سینئر فوجی افسر طارق محمد عبداللہ صالح بھی حوثی شدت پسندوں کے ساتھ ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہو گئے۔العربیہ کے مطابق مقتول صدر علی صالح کی جماعت پپپلز کانگریس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ منگل کو صنعاء میں حوثیوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں محمد عبداللہ صالح اور ان کے متعدد ساتھی بھی ہلاک ہوگئے۔

پیپلز کانگریس نے بریگیڈیئر جنرل طارق محمد عبداللہ صالح کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے اس کے قتل پر اہل خانہ سے تعزیت کی ہے۔ پیپلز کانگریس نے طارق عبداللہ کو ‘شہید’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کے پالتو حوثی دہشت گردوں کے ساتھ لڑائی کے دوران جام شہادت نوش کیا۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ علی صالح کے ایک اور قریبی عزیز کرنل محمد محمد عبداللہ صالح بھی حوثیوں کے میزائل حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔ انہیں ایک دوسرے زخمی کیپٹن احمد الرحبی کے ہمراہ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ دو روز قبل حوثی دہشت گردوں نے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو غداری سے گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں