پاکستان میں گراس روٹ لیول ہاکی کب شروع ہوگی؟

لاہور: ( سٹی نیوز) گراس روٹ ہاکی کا سٹرکچر اس وقت تین بنیادی یونٹس پر کھڑا ہے۔ کلب ہاکی، اکیڈمی ہاکی اور سکول لیول کی ہاکی۔ ان تینوں سطحوں پر اگر دیکھا جائے تو پاکستان کی ہاکی کی صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔

انڈیا نے نچلی سطح کی ہاکی پر اتنا کام کیا کہ آج وہ دنیا کی ٹاپ ٹیموں میں شامل ہے، اس کا ہاکی سٹرکچر اتنا مضبوط ہے کہ اب پاکستان کا اس سے جیتنا انتہائی مشکل نظر آتا ہے۔

جس طرح یورپ میں سینکڑوں کی تعداد میں کلبز ہیں اس طرح پاکستان میں ہاکی کے کلبز نہیں ہیں۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں جب شہباز سینئر کے دور میں کلبوں کی سکروٹننگ کی گئی تو اس وقت معلوم ہوا کہ کلبوں کی تعداد 40 ہے اس میں سے بھی کئی بوگس کلب تھے۔

پاکستان میں بوگس کلب بہت بڑی تعداد میں ہیں ۔ برائے نام کلبوں نے ووٹ کیلئے اپنی باڈی بنائی ہوئی ہے اور عملاً کچھ نہیں۔ حتیٰ کہ پی ایچ ایف کی کانگرس میں بھی بوگس ممبرشپ کی شکایات سامنے آ چکی ہیں۔

اکیڈمی کی بات کی جائے تو پنجاب کے چند علاقوں فیصل آباد، وہاڑی، بورے والا، گوجرہ اور لاہور میں چند اچھی اکیڈمیاں ہیں۔ سندھ میں بھی اکیڈمیاں کام کر رہی ہیں لیکن ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، جس لیول پر کام ہونا چاہیے وہ نہیں ہو رہا۔

اب اگر سکول لیول کی ہاکی کی طرف آتے ہیں تو وہ حکومتی لیول کا کام ہے۔ جب سے اٹھارویں ترمیم کے ذریعے کھیل صوبائی حکومت کو منتقل ہوئے ہیں صوبائی وزیر تعلیم، صوبائی وزارت کھیل اور پی ایچ ایف کو مل کر اس طرف توجہ کرنا چاہیے تھی کہ ہاکی کو سکول لیول پر عام کیا جائے۔

چونکہ ہاکی ایک مہنگا کھیل ہے اور اسے ہر کوئی کرکٹ کی طرح افورڈ نہیں کرسکتا۔ اس لئے یہ حکومتی توجہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ رہی بات نچلی سطح پر ٹیلنٹ کی تو اس حوالے سے سابق اولمپئین محمد ثقلین کا کہنا تھا کہ ’’میں نچلی سطح کی ہاکی پر کو چنگ سے وابستہ رہا ہوں اور مجھے اندازہ ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں ٹیلنٹ ہے۔ اس خطہ میں ڈاج کرنے اور ڈربلنگ کا ٹیلنٹ ہے۔ اصل مسئلہ فٹنس کا آ جاتا ہے ۔ ہم لوگ چھ چھ سات گھنٹے ٹریننگ کیا کرتے تھے، اب لڑکوں میں اتنا سٹیمنا نہیں ہے۔ ٹیلنٹ کو گروم کیا جا سکتا ہے۔ بات حکومتی اور پی ایچ ایف کی دلچسپی کی ہے‘‘۔

جب سجاد کھوکھر صدر اور شہباز سینئر سیکریٹر ی تھے تو اس وقت ہاکی کی نچلی سطح پر بھی کام کے نتائج سامنے نہ آسکے۔ اس وقت سکول بوائے چیمپئن شپ اور کلب لیول پر ’’ہاکی فار آل‘‘ کے نام سے پروگرام شروع کئے گئے۔

یہ پروگرام اس وقت کے ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ سابق اولمپئین نوید عالم نے شروع کئے تھے۔ جس میں کوچنگ کے پروگرام بھی تھے ۔ لیکن یہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکے۔ مناسب سپانسرشپ نہ ہونے اور فیڈریشن کی توجہ نہ ہونے کی وجہ سے دیرپا نہ ہوسکے۔

اس کے علاوہ انڈر ایج پروگرام بھی شروع کئے گئے لیکن بات پھر وہی آجاتی ہے کہ کسی بھی چیز کو جب تک آپ مسلسل اور مضبوط بنیادوں پر نہیں کریں گے سسٹم نہیں چلے گا۔جونیئر ٹیم کا ڈویلپمنٹ سکواڈ بھی بنایا گیا جس کے مقابلے بھی کروائے گئے۔

اس دوران سینکڑوں کھلاڑیوں کا پول تیار کیا گیا لیکن موجودہ پی ایچ ایف باڈی نے اس نرسری پول کا کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور یہ گراس روٹ لیول کے کھلاڑیوں کی ہاکی بھی بند ہوکر رہ گئی۔

اب نہ ان کے کوئی مقابلے دیکھنے میں آرہے ہیں اور نہ ہی ان کی کوئی ٹریننگ یاکوچنگ کے پروگرام کا کوئی اتا پتا ہے۔ کورونا نے ویسے ہی گرائونڈز کو سونا کررکھا ہے۔ پی ایچ ایف کے موجودہ سیکریٹری آصف باجوہ کو چاہیے کہ اگر وہ ہاکی کو پاکستان میں دوبارہ زندہ دیکھنا چاہتے ہیں تو گراس روٹ لیول پر ہاکی کو منظم کریں۔

دوسرا اہم کام جوکرنے والا ہے وہ ہے ہاکی لیگ کرانے کا جسے ہر صورت میں کرانا چاہیے تاکہ نیا ٹیلنٹ سامنے آئے۔ یہ دو کام کر گئے تو آپ کو پورا پاکستان یاد رکھے گاورنہ آپ کا حال بھی سابقہ اولمپئین کی طرح ہوگا۔

ماضی میں عمان کی ٹیم کے علاوہ ورلڈ الیون کی ٹیم بھی پاکستان آئی اور جونیئر ٹیموں سے کھیلتی رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے جونیئر کھلاڑیوں کو حوصلہ ملا ۔ ایسے مقابلے ضرور ہونے چاہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ ہمیں بنیادی نرسری پر کام کرنا چاہیے۔

یورپ میں گراس روٹ ہاکی کا مضبوط سٹرکچر ہے۔ بلجیئم اسی سٹرکچر کی وجہ سے ورلڈ چیمپئن بنا۔ وہاں اکیڈمیز اور کلب سسٹم بہت مضبوط ہے۔ اس کے علاوہ کلبوں کی لیگز ریگولر بنیاد پر ہوتی ہیں۔

روس اگرچہ فٹبال میں مشہور ہے لیکن وہاں بھی ہاکی کی لیگز ہوتی ہیں اور وہاں ہاکی کی سہولیات پاکستان سے بہت زیادہ ہیں حالانکہ روس کی ہاکی کی ٹیم اتنی مضبوط نہیں ہے لیکن وہاں ہاکی کا انفراسٹرکچر بہت اچھا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی وہاں لیگ کھیلنے جاتے ہیںلیکن پاکستان جس کا ہاکی قومی کھیل ہے نہ کلب مضبوط ہیں نہ ہی لیگ ہوتی ہے ۔

ہاکی میں جب تک شفافیت نہیں ہوگی، گروپنگ ختم نہیں ہوگی اور سیاست کا خاتمہ نہیں ہوگا ہاکی ٹھیک نہیں ہوگی ۔ ہاکی کو ٹھیک کرنے کیلئے بڑے بڑے اولمپئین آئے لیکن کسی نے دیرپا کام کی طرف نہیں سوچا کوئی بھی ہاکی جیسے پودے کی جڑ کی طرف نہیں گیا اور جڑ تھی گراس روٹ لیول کی ہاکی کیونکہ اس میں نتائج فوری نہیں آنے تھے سالوں بعد آنے تھے اس لئے اس کی طرف کسی نے بھی توجہ نہیںکی اور فوری نتائج کیلئے شاخوں کی ہی کانٹ چھانٹ کرتے رہے۔

جڑ کی طرف کسی نے توجہ نہیں کی ۔ کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے رہے لیکن نہ گراس روٹ ہاکی پر نظر ہوسکی نہ ہاکی لیگ کا بھاری پتھر اٹھایا جا سکا۔ بھارت نے اپنی گراس روٹ کی ہاکی بہتر کرکے ورلڈ ہاکی میں اپنی پوزیشن ٹاپ تھری میں کرلی ہے۔

وہاں ہاکی کا نچلی سطح کا سٹرکچر اتنا مضبوط ہے کہ وہ ریاستی لیول سے لیکر نیشنل لیول اور پھر انٹرنیشنل لیول تک کانٹے دار مقابلے والا ہوجاتا ہے ۔ کھلاڑی کندن بن کر نکلتا ہے۔

انہوں نے مسلسل ہاکی لیگ کرواکر کھلاڑیوں کی ایک کھیپ تیار کی جبکہ ہم ٹانگے کھینچنے میں ہی لگے رہے ۔بھارت کی ہاکی کی سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ پنجاب کی ایک ریاست نے اپنے کھلاڑیوں کی کوچنگ کیلئے ہالینڈ سے کوچ منگوایا ہوا تھا جبکہ ہم اپنے صوبے کے کھلاڑیوں کی کوچنگ کیلئے غیرملکی کوچ کا سوچ بھی نہیں سکتے۔

انہوں نے سندیپ سنگھ سے بھی بڑے کھلاڑی بنا لئے اور ہم سہیل عباس کے بعد کوئی بڑا کھلاڑی تیار نہ کرسکے ۔اگر آج بھی ہم گراس روٹ لیول ہاکی کی طرف آجائیں تو صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے کے مصداق دیر نہیں ہوئی۔ حالات ٹھیک ہوسکتے ہیں اور ہم ہاکی میں کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں۔

تحریر: طیب رضا عابدی

اپنا تبصرہ بھیجیں