پیپلز پارٹی کی رہ نما سیدہ شہلا رضا بھی مریم نواز شریف کو جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران دئیے جانے والے پروٹوکول اور سلیوٹ کے خلاف خم ٹھونک کر سامنے آگئی

کراچی (ویب ڈیسک) سندھ اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر اور پیپلز پارٹی کی رہ نما سیدہ شہلا رضا بھی مریم نواز شریف کو جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران دئیے جانے والے پروٹوکول اور سلیوٹ کے خلاف خم ٹھونک کر سامنے آگئی ہیں۔انہوں نے اپنے ٹویٹ اکاؤنٹ میں مریم نواز شریف کو اپنے ساتھ ماضی میں روا رکھے جانے والی پولیس کی بدسلوکی اور عدالتوں میں پیشی کے مناظر دکھانے کے لئے پرانی تصاویر اور خبریں جاری کی ہیں اور کہا ہے کہ مریم صاحبہ ان تصاویر میں میرے والد کے چہرے پر پھیلی تشویش کو دیکھیں کہ ان کی بیٹی عدالت میں پیش ہوتے وقت کن حالات سے گزررہی ہے اور اسکے ساتھ کیا کچھ ہوسکتا ہے۔انہوں نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا ہم قوم کی بیٹیاں نہیں تھیں کہجنہیں جیل سے عدالت میں لیڈیز پولیس کے بغیر لے جایا جاتا تھا؟۔قانون سب کے لئے ایک جیسا ہے۔
بینظیربھٹو بھی تو ایک وزیر اعظم کی بیٹی تھیں لیکن انہوں نے عدالتوں اور جیلوں میں تفتیش اور مقدمات کا جرات بہادری سے سامنا کیا اور ہم نے اپنی قائد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کسی پروٹوکول کی ضرورت محسوس نہیں کی۔سیدہ شہلارضا نے کہا ہے کہ سیاست میں مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔کورٹ کچہری میں جاکر عوام کے درد کا حقیقت پسندانہ اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ 1991 میں میاں نواز شریف کی حکومت کے دور میں سیدہ شہلا رضا کے خلاف بھی مقدمات بنائے گئے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں