یہ ہیں پاکستان کے نمائندے، فائدہ ہوا تو وہاں کی شہریت لے لی، یہاں کی موجیں دیکھیں تو واپس آ گئے، چیف جسٹس آف پاکستان کے دہری شہریت کیس میں ریمارکس

لاہور(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دہری شہریت کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہیں پاکستان کے نمائندے ،فائدہ ہواتووہاں کی شہریت لے لی،یہاں کی موجیں دیکھیں توواپس آگئے،انتخاب سے 2دن پہلے وطن کی محبت یاد آگئی۔دوران سماعت تحریک انصاف کی رہنماء عبدلیب عباس نے موقف اپنایا کہ وزیراعظم کی بہن سعدیہ عباسی نے امریکی شہریت کی تجدید کیلئے اپلائی کیا ہے جس پر انہوں نے الیکشن کمیشن سےبھی رجوع کررکھا ہے ۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں دہری شہریت ازخود نوٹس کی سماعت کی،پی ٹی آئی کے نومنتخب سینیٹر چودھری سرورعدالت میں پیش ہو گئے۔نومنتخب سینیٹر نے کہا کہ 2013میں برطانوی شہریت چھوڑچکاہوں،اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ آپ اپنابیان حلفی عدالت میں جمع کرائیں،عدالت نے خالد خان اوربلال منٹوکومعاون مقررکردیا۔
دوران سماعت پی ٹی آئی رہنما عندلیب عباس نے کہا کہ سعدیہ عباسی،نزہت صادق بھی دہری شہریت کیساتھ رکن پارلیمنٹ ر ہیں،ہمارے حقوق سلب کئے جارہے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ آپ کے حقوق کے تحفظ کیلئے بیٹھے ہیں اسی لئے ازخودنوٹس لیا،چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہیں پاکستان کے نمائندے ،فائدہ ہواتووہاں کی شہریت لے لی،یہاں کی موجیں دیکھیں توواپس آگئے،انتخاب سے 2دن پہلے وطن کی محبت یاد آگئی۔
اعلیٰ عدلیہ کے معزز جج نے ریمارکس دیئے کہ دہری شہریت کیس کواسلام آبادمیں سنیں گے۔
اس پر وکیل نزہت صادق،سعدیہ عباسی نے کہا کہ سماعت جلدی کرلی جائے،حلف برداری ہونی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا توحلف برداری ہوگی،عدالت نے دہری شہریت کیس کی مزید سماعت 13 مارچ تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں