تحریک آزادی کی نئی لہر سے پریشان بھارت

نئی دہلی(سٹی نیوز) بھارتی فوج کے ہاتھوں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک نے پوری وادی کو جس طرح اپنی لپیٹ میں لیا ہے ،اس نے مودی سرکار کے در و دیوار ہلا دیئے ہیں ، تحریک آزادی کی نئی لہر سے پریشان بھارت مسلسل مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ سروس اور سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرتا آ رہا ہے لیکن یہ پابندی بھی حریت پسند نوجوانوں کا راستہ نہیں روک پا رہی۔
ابھیشک ساہا نے اپنے لکھے گئے ایک کالم میں اعتراف کیا ہے کہ سوشل میڈیا تحریک آزادی کے لیے ایک گیم چینجر ثابت ہواہے۔ ’’برہان وانی کی طرح اب باقی مجاہدین بھی ماسک نہیں پہنتے، وہ جنگلوں میں بنائی گئی ویڈیوز میں مسکراتے نظر آتے ہیں، جیسے برہان نے نوجوانوں کے دلوں میں جگہ بنائی اب باقی بھی یہی کر رہے ہیں۔ہم لوگ انکو ان وڈیوز سے جانتے پہچانتے ہیں، سب کے کمپیوٹر اور موبائیل میں انکی تصاویر موجود ہیں، یہ 90 کی دہائی کی جنگ سے بالکل مختلف ہے، جس میں ایسی ٹیکنالوجی نہیں تھی۔سنگباز اپنے کام کی اب لائیو ویڈیو بنا کر اسی ٹائم اَپ لوڈ کرتے ہیں ،سوشل میڈیا پرِ ویڈیوز میں مظاہرے اور شیلنگ اور فورسز کی بربریت سب نظر آتی ہے، ساتھ ساتھ کمنٹری دی جا رہی ہوتی ہے حالات پر۔کشمیر کے بیانئے میں اب یہ ویڈیوز شامل ہو چکی ہیں، جس میں انسانی حقوق کی پامالی واضح دکھائی دیتی ہے اور بھارتی سرکار کے سر کا درد بن چکی ہے۔تھری جی اور فور جی کو اسی لئے روکا گیا تاکہ ان ویڈیوز اور ملٹی میڈیا کو روکا جا سکے اور صرف بنیادی ضروریات پوری ہو سکیں مگر یہ اور سوشل میڈیا پرعائد مکمل پابندی بری طرح سے ناکام ہوئی، کیونکہ سب کشمیریوں نے VPN کی مدد سے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا استعمال جاری رکھا اور سب کام اسی طرح سے جاری ہے۔ بھارت سرکار کو اب کوئی طریقہ نہیں سمجھ آ رہا کہ اب عوامی مزاحمت کو سوشل میڈیا پر کیسے روکا جا سکے؟۔ایک بلاگر کا کہنا ہے کہ اب بھارت جنگ دونوں محاذوں پر ہار چکا ہے، آن لائن بھی اور آف لائن بھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں