کیا آپ جانتے ہیں حضرت بابا فرید ؒ کو گنج شکرکیوں پکارا جاتا ہے؟ وہ تین کرامات آپ بھی جانئے جو اس نام کی وجہ تسمیہ بنیں

لاہور(ایس چودھری)حضرت بابا فرید الدین گنج شکر ؒ کے نام کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے یہ واقعہ زبان زد عام ہے کہ والدہ آپؒ کو شکر دیا کرتی تھیں جس کی وجہ سے آپؒ کو شکر گنج پکارا جانے لگا لیکن اس بارے تین مخلتف روایات پائی جاتی ہیں۔ تذکرہ نگاروں نے جومختلف روایات لکھی ہیں ان میں سے صرف تین روایات زیادہ معتبر سمجھی جاتی ہیں۔معروف محقق ڈاکٹر عابد نظامی لکھتے ہیں کہ تاریخ فرشتہ میں مرقوم ہے کہ بابا صاحب کی والدہ ماجدہ بچپن میں نماز کی پابندی کرانے کے لئے ان کی جائے نماز کے نیچے شکر کی پڑیا رکھ دیا کرتی تھیں اور ان سے فرماتی تھیں کہ جو نماز پڑھتے ہیں ، ان کی جا ئے نماز کے نیچے سے روزانہ انکو شکر مل جاتی ہے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ والدہ شکر کی پڑیا رکھنا بھول گئیں۔ کچھ دیر بعد انہیں یاد آیا تو گھبرا کر پوچھا ’’ مسعود ! تم نے نماز پڑھی؟‘‘
بابا صاحب نے ادب سے جواب دیا ’’ ہاں امی جان ! نماز پڑھ لی اور شکر بھی کھا لی‘‘ یہ جواب سن کر انکی والدہ بڑی حیران ہوئیں اور سمجھ گئیں کہ اس بچے کی غیب سے مدد ہوئی ہے۔ چنانچہ اس وقت سے انہوں نے اپنے بچے مسعود کو گنج شکر کہنا شروع کر دیا۔
دوسری روایت کچھ یوں ہے،اخبار الاخیار ، خزینۃ الاصفیا اور گلزار ابرار میں لکھا ہے کہ ایک سوداگر گاڑی پر شکر لاد کر ملتان سے دہلی جا رہا تھا ، جب اجودھن پہنچا تو راستے میں حضرت شیخ کھڑے تھے۔ آپ نے اس سے پوچھا ’’ اس میں کیا لدا ہوا ہے؟‘‘
سوداگر نے ٹالنے کے لیے کہا’’ نمک ہے بابا ‘‘
اس ہر آپؒ نے فرمایا ’’ اچھا نمک ہی ہو گا‘‘
سوداگر نے منزل پر پہنچ کر جب دیکھا تو بوروں میں شکر کے بجائے نمک تھا۔ بہت پریشان ہوا اور پھر واپس منزل اجودھن حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور معافی طلب کی۔ آپؒ نے فرمایا ’’ جھوٹ بولنا بری بات ہے۔ آئندہ کبھی جھوٹ نہ بولنا‘‘
پھر فرمایا ’’ بوروں میں شکر تھی تو ان شا اللہ شکر ہی ہو گی‘‘
سوداگر نے جھوٹ سے توبہ کی اور جا کر بوروں کو دیکھا تو ان میں شکر بھری ہوئی تھی۔ بیرم خان خانخاناں نے اس واقعہ کو اس طرح نظم کیا ہے
کانِ نمک ، جہانِ شکر۔ شیخ بحر و بر
آں کز شکر نمک کند داز نمک شکر
تیسری روایت اس طرح سے ہے کہ ایک دفعہ بابا صاحب نے اپنے پیر و مرشد حضرت قطب صاحب کے ارشاد کے مطابق تین دن کا روزہ رکھا۔ تیسرے روز افطار کے وقت ایک شخص چند روٹیاں لایا۔ آپؒ نے غیبی امداد سمجھ کر ان سے روزہ افطار کر لیا۔ لیکن فوراً ہی متلی ہونے لگی اور جو کچھ کھایا تھا قے کے ذریعے نکل گیا۔
تھوڑی دیر بعد پیر و مرشد کی خدمت میں پہنچ کر یہ واقعہ عرض کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ وہ روٹیاں ایک شرابی جواری نے بھجوائی تھیں۔ اللہ تعالؒ ی کا شکر ہے کہ تیرے معدے نے اسے قبول نہیں کیا۔ اب تین روزے اور رکھو اور جو غیب سے میسر آئے اس سے افطار کرو۔
بابا صاحب نے تین دن کا روزہ رکھا۔ لیکن تیسرے روز افطار کے وقت کچھ میسر نہ آیا۔ رات کو بھوک نے بہت ستایا تو بابا صاحب نے چند کنکریاں اٹھا کر منہ میں رکھ لیں۔ اللہ کی قدرت کہ وہ کنکریاں منہ میں جاتے ہی شکر بن گئیں۔ بابا صاحب نے یہ واقعہ اپنے مرشد کریم کی خدمت میں بیان کیا تو انہوں نے فرمایا”سبحان اللہ ، یہی غیب سے تھا۔ ان شا اللہ تو شکر کی طرح ہمیشہ شیریں رہے گا اور گنج شکر کہلائے گا۔‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں