سندھ میں سبزیوں کی کھپت اور ترسیل متاثر، کاشت کاروں کو شدید نقصان

کراچی: (سٹی نیوز) سندھ سے مارچ و اپریل میں سبزیاں پورے پاکستان سمیت افغانستان اور ایران تک کو برآمد کی جاتی ہیں، ان کی کھپت اور سپلائی متاثر ہونے سے صوبے بھر میں سبزیوں کے کاشت کاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

سندھ میں کاشت کار ٹماٹر کی تیار فصل پر ٹریکٹر چلانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ طلب میں کمی کے باعث ٹماٹر سمیت تمام سبزیوں کے ریٹ سبزی منڈی میں انتہائی کم ہو گئے ہیں۔

سبزی منڈیوں میں ابھی کاشت کاروں کو توری کے 10کلو کے تھیلے کے 3سو روپے، گوبی کے 50کلو کے تھیلے کے 2سو روپے، لوکی کے چار سو روپے فی من، 60کلو بھنڈی کے تھیلے کے 4ہزار روپے اور ٹماٹر کے 13کلو کے تھیلے کے 60روپے دیئے جارہے ہیں۔ کاشت کار کہتے ہیں کہ منڈی کے موجودہ نرخ میں نقصان ہی نقصان ہے۔

پورے ملک کی بہ نسبت سندھ میں سردیاں کم پڑنے کی وجہ سے مارچ و اپریل کے مہینوں میں سبزیوں کا عروج ہوتا ہے، اس عرصے میں یہاں سے سبزیاں پورے ملک سمیت افغانستان اور ایران تک کو برآمد کی جاتی ہیں لیکن کاشت کار ناقابل تلافی نقصان اٹھانے پر مجبور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں