پیر کی سہ پہر جب پاناما دستاویزات کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی رپورٹ شاہراہ آئین پر عدالت عظمیٰ میں دائر کی جا رہی تھی

اسلام آباد( سٹی نیوز) پیر کی سہ پہر جب پاناما دستاویزات کے حوالے سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) کی رپورٹ شاہراہ آئین پر عدالت عظمیٰ میں دائر کی جا رہی تھی جس میں شریف خانوادے کو ہدف بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔وزیراعظم نواز شریف سعودی عرب سے آئے اپنے پوتے زکریا حسین شریف کی سالگرہ کا کیک افراد خانہ کے جھرمٹ میں کاٹ رہے تھے جہاں ہیپی برتھ ڈے ٹو یو کے نغمے الاپے جارہے تھے اس موقعہ پر شرکاء کے لئے خصوصی ضیافت کااہتمام تھا۔
اس دوران وہاں موجود محترمہ مریم نوازشریف کو اطلاع دی گئی کہ رپورٹ پیش ہو گئی ہے اور حکومت کے مخالفین نے شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا رکھاہے اس پر وزیراعظم کی صاحبزادی نے سنی اَن سنی کردی نواز شریف نے اشارے سے دریافت کیا کہ ماجرا کیا ہے تو محترمہ مریم نے کہاکہ کچھ نہیں وہی ’’ان کا‘‘ رونا دھونا ہے۔ حسین نواز سالگرہ کی صبح ہی لندن سے یہاں پہنچے تھے۔ ان کے چھوٹے بھائی حسن نواز بعدازاں اپنی کاروباری مصروفیات کے سلسلے میں عازم لندن ہو گئے۔نماز عصر کے بعد وزیراعظم نواز شریف اپنے دفتر میں آئے۔ جہاں وفاقی دارالحکومت میں موجود وفاقی وزراء نے ان سے ملاقات کی اور تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بارے میں بے تکلفانہ تبادلہ خیال کیا اور اس حوالے سے حکمت عملی کے بارے میں غور کیا۔ یہ غیر رسمی ملاقات اذان مغرب تک جاری رہی
اسی دوران عدالت عظمیٰ سے رپورٹ کی نقول بھی ایوان وزیراعظم پہنچا دی گئیں قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف جنہیں صبح دھاسو کے پن بجلی کے عظیم الشان منصوبے کے سنگ بنیاد رکھنے کیلئے صوبہ کے پی جانا تھا موسم کی خرابی کے باعث انہیں دورہ ملتوی کرنا پڑا تھا تاہم انہوں نے اپنے دفتر میں بجلی کے نئے منصوبوں کے بارے میں متعلقہ حکام سے بریفنگ لی اور وہ ماہ رواں کے آخر میں بجلی کی بہم رسانی کیلئے نئے پاورپلانٹ کے افتتاحی پروگرام کا جائزہ لیا۔اس دوران وزیراعظم ہشاش بشاش دکھائی دے رہے تھے۔ ایوان وزیراعظم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اس وقت سیاسی چومکھی لڑنے میں مصروف ہیں بھرپور سیاسی پنجہ آزمائی اور حزب اختلاف کے بعض عناصر سے زور دار قانونی جنگ کے لئے تیار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں