وزیر اعظم کے داماد کا کہنا تھا کہ وہ میاں شریف سے جیب خرچ وصول کرتے رہے

اسلام آباد(سٹی نیوز) پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے وزیر اعظم پاکستان کے داماد کیپٹن صفدر کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے اپنے اور اپنی بیگم کی جانب سے پانامہ کیس سے مکمل اظہار لاتعلق کیا مگر جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران ان کی جانب سے کسی بھی قسم کی معلو ما ت ریکارڈ یا دستاویزات پیش نہیں کی گئیں جبکہ کیپٹن صفدرنے جے آئی ٹی کے سوالات کے جواب دینے سے بھی گریز کیا گیا۔ دوران تحقیقات وزیر اعظم کے داماد کا کہنا تھا کہ وہ میاں شریف سے جیب خرچ وصول کرتے رہے ہیں جبکہ وہ اب بھی شریف خاندان سے15سو ریال (تقریبا 42 ہزار پاکستانی روپے) ماہانہ وظیفہ لیتے ہیں۔
پانامہ کیس کی تحقیقات کے لئے قائم جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ دوران تفتیش کیپٹن صفدرکاسارازوراس پررہاکہ وہ انتہائی ایماندار،خودداراورخودمختار ہیں لیکن کیپٹن صفدر جھوٹے، بے ایمان، فراڈیے اور انحرافی ثابت ہوئے۔ جے آئی ٹی کے مطابق دوران تفتیش کیپٹن صفدرکا کہنا تھا کہ وہ میاں شریف سے جیب خرچ وصول کرتے رہے جبکہ انہوں نے میاں شریف کے بعداپنے ذریعہ آمدن سے متعلق واضح جواب نہیں دیا، وزیراعظم کے داماد نے سپریم کورٹ میں اپنے وکلا کو بھی ماننے سے انکا رکیا۔ جے آئی ٹی کے مطابق کیپٹن صفدر یا تو سفید جھوٹ بول رہیہیں یا واقعی سب کچھ سے لاعلم تھے۔ کیپٹن صفدراورانکی بیگم کی ایون فیلڈاپارٹمنٹس سے تعلق بھی زیرتفتیش ہے جبکہ ان سے عزیزیہ اسٹیل ملزاورآمدن ذرائع پرتفتیش کرناباقی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں