بدلتا موسم اور سیاست

ملک کے طول و عرض میں جہاں سرد ہواؤں کے جھونکوں سے روز بروز سردی بڑھتی جا رہی ہے وہاں سیاسی درجہ حرارت دن بدن بڑھتا جا رہا ہے یوں سمجھیں کہ سیاست میں موسم گرما کا آغاز ہونے جارہا ہے اپوزیشن جماعتیں ایک مرتبہ پھر اکھٹی ہوچکی ہیں
اس وقت اپوزیشن کی بڑی سیاسی جماعتوں کا ایک نیا اتحاد سامنے آیا ہے جسے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا نام دیا گیا ہے اس میں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، جمیعت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، پختون خوا ملی عوامی پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی مینگل، جماعت اہلحدیث و دیگر سیاسی جماعتیں شامل ہیں حزب اختلاف کی آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی نے کی اپوزیشن جماعتوں کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت نے ملکی معیشت کو تباہ کردیا ہے پاکستانی روپیہ بھارت اور بنگلادیش ہی نہیں بلکہ افغانستان اور نیپال سے بھی نیچے گر چکا ہے، ایسی صورت میں عمران خان کی حکومت کو مزید وقت نہیں دے سکتے وزیراعظم فوری طور پر استعفیٰ دے

جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے اے پی سی کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کی بھونڈی کوشش قرار دیا
ان کا کہنا تھا کہ قوم جانتی ہے کہ اپوزیشن سیاست کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرتی ہے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کرپشن کے خلاف اپنے پختہ عزم پر سمجھوتا نہیں کریں گے اور کسی کو بھی این آر او نہیں ملے گا
جبکہ صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کا کہنا تھا کہ الائیڈ پارٹیز فار کرپشن کے ہاتھ میں اس دفعہ بھی رسوائی اور جگ ہنسائی ہی آئے گی اے پی سی کے بارے میں وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سارے گندے انڈے ایک ہی ٹوکری میں جمع ہو گئے ہیں یہ سب مل بھی جائیں تو عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے ان کا کہنا تھا کہ نوٹ کو عزت دیتے ہو،پھر کہتے ہو ووٹ کو عزت دو
اپوزیشن جماعتوں اور حکمران پارٹی کے بیانات سننے کے بعد عام شہری تذبذب کا شکار ہو چکے ہیں اور اس سوچ میں ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کے ارکان اسمبلی اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے کر حکومت کو گرا سکتے ہیں اگر تمام جماعتیں یکجا ہو کر استعفیٰ دے دیں تو اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں گی
ملکی سیاست پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر مسلم لیگ ق بھی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں شامل ہوجائے تو اپوزیشن اتحاد کو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل ہوجائے گی اور ایک مخلوط حکومت کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے ، اب آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ عمران خان کی حکومت گرانے میں کامیاب ہو جائے گا کیونکہ کہ گزشتہ سال بھی تمام اپوزیشن جماعتیں یکجا ہو کر بھی عمران خان کی حکومت کو گرانا تو در کی بات تھی مگر ہلانے میں بھی کامیاب نہیں ہوئی حکومت پر مسلسل دباؤ کے باوجود عمران خان نے این آر او دینے سے صاف انکار کر دیا تھا ان کا کہنا تھا کہ میری حکومت چلی جائے مگر قوم کے کا پیسہ لوٹنے والوں کو معاف نہیں کروں گا ۔ اب اگر دیکھا جائے تو موجودہ حکومت کی دو سال حکمرانی مکمل ہو کر تیسراسال شروع ہو چکا ہے موجودہ حکومت نے جو تبدیلی کے وعدے پاکستانی عوام کے ساتھ کیے تھے وہ تا حال ایفا نہ ہو سکے ملک میں آٹا اور چینی سمیت اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا بجلی اور گیس کے نرخ بھی بڑھا دیے گئے عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جارہے جس کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف کے اپنے کارکن بھی موجودہ حکومت سے مایوس نظر آرہے ہیں ، ایسے وقت میں اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد اور دباؤ کے باعث شاید
،گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو ، والی بات ثابت ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں