میاں منشا حاضر ہو،ملک کی سب سے بڑی عدالت نے ملک کے سب سے امیر آدمی کوفوری پیش ہونے کا حکم کیوں دے ڈالا؟

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)کٹاس راج مندر ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو ایسے نہیں چھوڑیں گے،ہم نے عوامی مفاد میں مقدمہ شروع کیا جس سے وکیلوں کی چاندی ہوگئی
دوران سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کون کون سی سیمنٹ فیکٹریاں ہیںان کے نام بتائیں اور ڈی جی خان سیمنٹ فیکٹری کی نمائندگی کون کررہا ہے،جس پر نمائندہ ڈی جی خان سیمنٹ نے بتایا کہ نمائندگی سلمان اکرم راجا کررہے ہیں جو ملک سے باہر ہیں۔
اس پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگرسلمان اکرم راجا ملک سے باہرہیں تو میاں منشا خود آجائیں، انہوںنے کہا کہ ہم ہوم سیکرٹری اور سیکرٹری خارجہ کو بلاکر پوچھ لیتے ہیں،سپریم کورٹ نے استفسار کیا کہ آصف ہاشمی کو تاحال کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟۔جس پر وکیل وقف املاک نے کہا کہ آصف ہاشمی نے کروڑوں روپے کی کرپشن کی اورباہربھاگ گئے،سابق چیئرمین آصف ہاشمی نے محکمے کی تباہی اوربربادی کی۔
عدالت نے مورتیوں کی عدم فراہمی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ شری رام مندر اور ہنو رام مندر میں مورتیاں کیوں نہیں رکھی گئیں، چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمے کو ماتحت عدلیہ سننے کی مجاز نہیں۔
اس پر جسٹس اعجاز افضل نے استفسار کیا کہ مورتیاں ہیں بھی یا ادھر ادھر کر دی ہیں؟۔
سپریم کورٹ نے لاہورہائیکورٹ سے ضلع چکوال کی فیکٹریوں کی فائلیں منگوالیں اور پنجاب حکومت سے عملی اقدامات کی تفصیلی رپورٹ ایک ماہ میں طلب کر لی اور مقدمے کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں