رحمان ملک کی سورة اخلاص غلط پڑھنے کی ویڈیو تو آپ کو ضرور یاد ہو گی

لاہور (نیوز ڈیسک) سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی جب وہ وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس کے دوران سورة اخلاص نہ پڑھ سکے تھے۔

یہ ویڈیو کئی ٹی وی چینلوں پر بھی چلائی گئی اور سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ویڈیو لیک ہونے کے کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ کی مسجد میں جا کر ایسا کیا کام کیا تھا کہ نمازیوں کی بھی ہنسی چھوٹ گئی؟ سینئر صحافی حبیب اکرم کے انکشاف نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا دی ہے۔

ایک انٹرویو کے دوران حبیب اکرم نے بتایا کہ ”رحمان ملک صاحب کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور کچھ ٹی وی چینلوں پر بھی چلی اور ان کے بارے میں یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ انہیں سورة اخلاص بھی نہیں آتی۔ ویڈیو لیک ہونے کے کچھ عرصہ بعد منصورہ میں میٹنگ تھی اور صدر آصف علی زرداری کا پیغام لے کر رحمان ملک آ گئے۔

عصر کا وقت تھا اور اس وقت کے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن منصورہ کی مسجد میں ہی نماز کی امامت کروا رہے تھے۔ رحمان ملک سے کہا گیا کہ پہلے نماز پڑھ لیتے ہیں اور پھر میٹنگ کر لیتے ہیں۔ سید منور حسن نے نماز کی امامت کی اور نماز ختم ہونے کے بعد دعا کروائی۔

دعا ختم ہونے کے فوری بعد رحمان ملک امام صاحب کے پاس آ گئے اور باآواز بلند کہنے لگے کہ دیکھیں میرے بارے میں کیا غلط پراپیگنڈہ ہو رہا ہے کہ مجھے سورة اخلاص بھی نہیں آتی لیکن مجھے تو آتی ہے اور یہ کہہ کر انہوں نے باآواز بلند سورة اخلاص پڑھنی شروع کر دی۔

اس پر وہاں مسجد میں موجود سب لوگ شگفتہ ہوئے اور ہنسنے لگے کہ یہ کون سا موقع ہے اور کون سا محل ہے جہاں انہیں اپنی صفائی کی ضرورت پیش آ گئی۔ رحمان ملک ایسے ہی آدمی ہیں، انہوں نے غالباً اس کے بعد سورة اخلاص یاد کر لی تھی جو سید منور حسن کو سنا دی۔“

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں