سعودی عرب نے قطر کا بائیکاٹ کیا تو امریکہ نے بھی اپنی توپوں کا رخ اس کی جانب کر لیا

واشنگٹن (ویب ڈیسک) سعودی عرب کے دورے کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور قطر کے امیر کے درمیان ملاقات بہت خوشگوار رہی مگر چند دن بعد ہی جب سعودی عرب نے قطر کا بائیکاٹ کیا تو امریکہ نے بھی اپنی توپوں کا رخ اس کی جانب کر لیا۔ امریکی صدر کے موقف میں اس اچانک تبدیلی نے سب کو حیران کردیا لیکن اس سے بھی زیادہ حیران کن بات اب سامنے آئی ہے کہ قطر کے بارے میں امریکہ کے موقف میں تبدیلی کی اصل وجہ امریکی صدر کے داماد ہیں۔
امریکی صدر کے داماد جیرڈ کشنر نے قطر سے 50 کروڑ ڈالر (تقریباً 50 ارب پاکستانی روپے) قرض حاصل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں اس میں ناکامی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق جیرڈ کشنر نے اس ناکامی کا بدلہ لینے کیلئے اپنے سسر ڈونلڈ ٹرمپ کو قطر کے خلاف سخت موقف اپنانے پرمجبور کیا۔ ان انکشافات کے بعد امریکہ میں ایک بار پھر یہ سوال زیر بحث ہے کہ امریکی صدر کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے کاروباری مفادات امریکی ریاست کے مفادات کے ساتھ ٹکرارہے ہیں۔
جب امریکی صدر اپنی انتخابی مہم چلارہے تھے تو ان کے داماد جیرڈ کشنر نیویارک کے 666ففتھ ایونیو پر 1.8 ارب ڈالر (تقریباً 1.8 کھرب پاکستانی روپے) کی لاگت سے تیار ہونے والی اپنی کثیر المنزلہ عمارت کیلئے حاصل کئے گئے قرضہ جات کی واپسی کی کوششوں میں مصروف تھے۔ انہوں نے بعدازاں اس مقصد کیلئے قطر سے بھی قرضہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں قرض نہ مل سکا۔
اگرچہ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن قطر اور اس کے ہمسایہ عرب ممالک کے درمیان مفاہمت کیلئے کوشاں ہیں لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر پر برہم نظر آتے ہیں اور گاہے بگاہے اپنی تلخی کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ قطر اور اس کے ہمسایہ ممالک کے مابین حالات بہتر کرنے کیلئے کوشاں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن امریکی صدر کے سخت مؤقف پر حیران ہیں اور انہیں بھی شک ہے کہ اس کے پیچھے صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ہی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں