چین کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں پس و پیش سے کام لیا جاتا ہے

کراچی (سٹی نیوز) پاکستان کی جانب سے دنیا بھر میں چین کو اپنا بہترین دوست کہا جاتا ہے جس کا کئی مواقع پر عملی مظاہرہ بھی دیکھنے میں آتا ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان ابھی بھی بعض شعبے ایسے ہیں جن میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات برابری کی سطح پر قائم نہیں ہیں۔ اس کی ایک بڑی مثال چین کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو ویزے جاری نہ کرنا یا ویزے جاری کرنے کیلئے مشکل طریقہ کار ہے۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی جانب سے اپنے بہترین دوست چین کے شہریوں کوبغیر کسی رکاوٹ کے ایک سال تک کا ویزہ با آسانی فراہم کردیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب چین کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں پس و پیش سے کام لیا جاتا ہے۔
سابق صدر چیمبر آف کامرس کراچی عبداللہ ذکی نے بتایا کہ چین کی جانب سے پاکستان کے کاروباری افراد کو صرف تین ماہ کا ویزہ جاری کیا جاتا ہے جس کے بعد اس کی تجدید نو کرنی پڑتی ہے۔ اس عمل کے دوران دو سے تین مہینے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری افراد کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے حکومت پاکستان کے ساتھ ساتھ چینی حکومت سے بھی کئی بار درخواست کی ہے کہ بزنس کمیونٹی کے تحفظات کا خاتمہ کیا جائے۔ چینی سفارتخانے اور قونصل خانوں کو بھی کراچی چیمبر کی جانب سے کئی بار خطوط لکھے جا چکے ہیں لیکن وہ ہر بار یہی کہتے ہیں کہ ویزہ میں پیش آنے والی مشکلات کا خاتمہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، تاہم یہ وعدے ابھی تک وفا نہیں ہوئے۔
عبداللہ ذکی نے کہا کہ جب تک پاکستان کی بزنس کمیونٹی کو سہولیات نہیں دی جاتیں تو اس کا نقصان پاکستان کو ہی ہوگا کیونکہ اس طرح ہمارا در آمدی خسارہ بڑھتا چلا جائے گا اور اگر چین کی طرف سے بھی ویزے جاری نہیں کیے جاتے تو انہیں بھی شدید نقصان ہوگا۔ اگر پاکستان کے کاروباری افراد چین نہیں جا پائیں گے تو وہاں سے اشیا کی درآمد میں کمی آئے گی اور چین کو بھی سالانہ 8 سے 9 ارب ڈالر کا نقصان ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں