جنسی تسکین کے لیے استعمال کی جانے والی گڑیا کے ذریعے مردوں کی جاسوسی کا خطرہ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی دنیا میں جنسی گڑیاؤں کی لعنت تیزی سے پھیل رہی ہے جنہیں ماہرین انسانیت کو درپیش سب سے بڑے خطرات میں سے ایک قرار دے رہے ہیں۔ اب ان کے متعلق کچھ مزید خوفناک باتیں سامنے آ گئی ہیں۔ میل آن لائن کے مطابق ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس جنسی گڑیا(Sexbots)کے ذریعے حکومتیں مردوں کی جاسوسی کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ ان گڑیا سے مردوں کو جسمانی خطرہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ یہ ان کے اعضا، بالخصوص عضو مخصوصہ کو کچھ بھی سکتی ہیں۔

فرانسس ایکس شین نامی ایک ماہر کا کہنا تھا کہ” یہ جنسی روبوٹس مصنوعی ذہانت کے حامل ہیں جو مرد کو جذباتی طور پر بھی متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ اس سے باتیں کر سکتے ہیں۔ یہ بچے کا لنچ باکس تیار کر سکتے ہیں اورگھر کے بوڑھے شخص کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کر سکتے ہیں۔ چنانچہ انہیں ہیک کرکے اس گھر کے متعلق تمام انتہائی ذاتی نوعیت کی معلومات باآسانی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ماہرین نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ سمیت بیشتر ممالک میں جنسی روبوٹس پر سے پابندی اٹھائی جا چکی ہے اور ان کی مقبولیت اسی شرح سے بڑھتی رہی تو آئندہ 50برس تک ان کا چلن عام ہو جائے گا اور یہ انسانی زندگی کا لازمی حصہ بن جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں