قطری شہزادے نے پاناما کیس میں گواہی کیلئے مفت میں خط نہیں لکھا بلکہ اسے ایل این جی معاہدے میں 200 ارب روپے سے نوازا گیا

لاہور (سٹی نیوز) سینئر صحافی و اینکر پرسن آفتاب اقبال نے کہا ہے کہ انہوں نے ن لیگ کو ووٹ دیا تھا لیکن حکومتی کارکردگی کی وجہ سے ان کا ووٹ ضائع ہوا ہے۔ موجودہ حکومت کے سابق ادوار میں بڑے بڑے سکینڈلز سامنے آئے جبکہ موجودہ دور میں بھی کرپشن کے بڑے قصے ہیں۔ ن لیگی حکومت کی ’ گڈ گورننس‘ کی بدولت 50 لاکھ افراد بیروزگار ہو چکے ہیں۔قطری شہزادے نے پاناما کیس میں گواہی کیلئے مفت میں خط نہیں لکھا بلکہ اسے ایل این جی معاہدے میں 200 ارب روپے سے نوازا گیا ہے۔
گزشتہ چار سال کے دوران پاکستان کی برآمدات میں ساڑھے 4 ارب ڈالر کی کمی آئے ہے جبکہ اس دور حکومت میں 50 لاکھ لوگ بیروزگار ہوئے ہیں، اسحاق ڈار کا کرشمہ ہے کہ ملک 24 کھرب روپے کا مقروض ہو چکا ہے۔ میں نے نواز شریف کو ووٹ دیا تھا لیکن حکومتی کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے کہ ہمارا ووٹ ضائع ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سستی روٹی سکیم میں اپنی واہ واہ کرانے کیلئے یہ لوگوں کو مہنگی ترین کوریئر سروسز کے ذریعے آٹے کی پوری پوری بوریاں بھجواتے رہے ہیں۔ ان دونوں بھائیوں کا مطمع نظر صرف وہ منصوبہ ہوتا ہے جو لوگوں کو نظر آئے اور ووٹ حاصل کیے جا سکیں، اگر ان کی گورننس کو دیکھا جائے تو 100 میں سے صفر نمبر ملنا چاہیے۔
آفتاب اقبال نے مزید کہا کہ قطری شہزادے نے صرف 4 تلوروں کا شکار کرنے کیلئے پاناما کیس میں خط نہیں لکھا بلکہ ایل این جی معاہدے میں قطری شہزادے کو 200 ارب روپے سے نوازا گیا ہے اور اگلے پانچ سالوں کے دوران اس معاہدے کی وجہ سے قوم کو مزید 5 ارب ڈالر کا ٹیکہ لگے گا۔
ن لیگی حکومت کے کرپشن سکینڈلز پر گفتگو کرتے ہوئے آفتاب اقبال نے کہا کہ آشیانہ سکیم پر اس حکومت کو اولمپک گولڈ میڈل ملنا چاہیے، اورنج ٹرین پر بڑی بڑی مبینہ کک بیکس لی گئیں، پیلی ٹیکسی، موٹروے میں کرپشن کی داستانیں آج بھی درو دیوار پر لکھی ہوئی ہیں جبکہ کو آپریٹو سکینڈل میں بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کے معاشی قتل کا خون بھی انہی کی گردن پر ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں