جب کسی کے سر پر بھاری قرض چڑھ جائے تو اس کی عقل ماؤف ہو جاتی ہے اور بالکل سمجھ نہیں آتی کہ اس دلدل سے کیسے نکلا جائے

نئی دلی (ویب ڈیسک) جب کسی کے سر پر بھاری قرض چڑھ جائے تو اس کی عقل ماؤف ہو جاتی ہے اور بالکل سمجھ نہیں آتی کہ اس دلدل سے کیسے نکلا جائے۔ بعض لوگ تو قرض خواہوں سے تنگ آ کر جرائم کی جانب بھی مائل ہو جاتے ہیں، اور کچھ تو ایسے جرائم کر گزرتے ہیں کہ سن کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ کچھ ایسا ہی عجب تماشہ ایک بھارتی شہری نے کیا، جس نے قرض واپس کرنے کے لئے اپنے گھر میں ہی جعلی نوٹ بنانے والی فیکٹری قائم کر ڈالی۔
پولیس نے 30سالہ شخص روی گاندھی کو گرفتار کیا ہے جو اپنے ساتھیوں اجے پٹیل، ببلو مادھیو اور واسو عرف بنگالی کے ساتھ ملکر دھڑا دھڑ جعلی کرنسی بنا رہا تھا۔ بھارتی پولیس کے سپیشل آپریشنز گروپ نے روی کے گھر سے 40 لاکھ سے زائد مالیت کے جعلی نوٹ برآمد کرلئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مرکزی ملزم روی فارن سٹڈی کنلسٹنسی کا کام کرتا تھا لیکن کچھ عرصہ قبل اسے بھاری نقصان ہوا تو 70 لاکھ روپے کا قرض سر پر چڑھ گیا۔ اس قرض کی واپسی کیلئے اسے یہ حل سوجھا کہ جعلی کرنسی بنا کر اسے مارکیٹ میں فروخت کیا جائے۔ وہ جعلی نوٹ مارکیٹ میں بیچ کر ان کے بدلے اصلی نوٹ حاصل کرتا تھا تاکہ اپنے قرض کی ادائیگی کرسکے۔
تفتیش کے دوران ملزم نے پولیس کو بتایا کہ وہ تین لاکھ روپے کے جعلی نوٹ اصلی ایک لاکھ روپے میں فروخت کررہا تھا۔ جعلی نوٹ بنانے کیلئے وہ کلر پرنٹر استعمال کررہا تھا۔ پرنٹنگ کرنے کے بعد وہ ان نوٹوں پر مخصوص رنگوں کی لکیریں بناتا تھا تا کہ یہ دیکھنے میں اصلی نظر آئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں