شریف فیملی کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا معاملہ، نثار کے دور میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہو نگے ،احسن اقبال

لاہور(ویب ڈیسک)وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے سابق وزیر داخلہ چودھری نثار کے دور میں فیصلے کہیں اور ہوتے ہوں گے ، اس حوالے سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، اب وزارت داخلہ کے فیصلے آئین اور قانون کے مطابق ہوتے ہیں کہیں اور نہیں۔یادرہے کہ اس سے قبل چوہدری نثار علی خان نے کہاتھا کہ شریف فیملی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے نیب کی سفارشات کا نظرانداز کیاگیا تو فیصلہ خصوصی کمیٹی کی بجائے کہیں اور ہواہے ، انہوں نے مزید کیا کہا؟

ایک انٹرویو میں احسن اقبال نے کہا ہم نے ای سی ایل کی پالیسی کو اوپن کردیا ہے تاکہ اس میں کسی قسم کے انتقام کی بو نہ آئے۔انہوں نے کہا وہ یہ بات نوید قمر کو بتانا چاہتے ہیں کہ اگر حکومت کی کسی قسم کی بدمزگی کی خواہش ہوتی تو ڈاکٹر عاصم کو باہر جانے کی اجازت نہ ملتی ہم اس سلسلے میں رکاوٹ پیدا کرسکتے تھے۔راجہ پرویز اشرف کیلئے رکاوٹ پیدا کرسکتے تھے لیکن ہم نے اس کو شفاف انداز میں چلایا ہے ،چودھری نثار شاید یہ بات بھول گئے ہیں کہ اگست 2016 میں سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ آیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ جہاں پر “وفاقی حکومت ” کے الفاظ درج ہیں اس سے مراد کابینہ ہے۔

ای سی ایل پر نام ڈالنا یا نکالنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ہم نے 600سے زائد کیسوں کو کابینہ کی منظوری کیلئے بھیجا ہے ،اس میں میاں نواز شریف اور اسحاق ڈارکے کیس بھی شامل ہیں، یہ کیس گزشتہ روز بھیجے گئے ہیں، ہم نے اس بارے میں لا ڈویژن سے ایڈوائس لی ہے۔اب کابینہ ہی اس بات کی مجاز ہے کہ کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالے یا اس سے نکال دے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں