فاضل عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی کی اپروچ یہ تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا

اسلام آباد (سٹی نیوز )پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین پاناما کیس کی سماعت جاری ہے جس میں عدالت عظمیٰ نے ریمارکس دئیے کہ بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ بہت سے معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا،دیکھنا تھا کہ رقم کہاں سے آئی۔اصل چیز منی ٹریل کا سراغ لگانا تھا۔جہاں تک مجھے یاد ہے لندن فلیٹس پر پہلے بھی تحقیقات ہو تی رہی ہیں۔ فاضل عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ شریف فیملی کی اپروچ یہ تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا ؟فیملی کی اپروچ کیا ہے آپ دیکھ رہے ہیں ، لندن فلیٹس کا مالک کون ہے فیملی کو کچھ پتہ ہی نہیں۔لند ن فلیٹس کی ملکیت کے حوالے سے کیے گئے سوالات کے جواب میں کہا گیا ہمیں نہیں پتہ۔وزیر اعظم سے لندن فلیٹس کا پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ہوسکتا ہے کہ حسن نواز فلیٹ کے مالک ہوں۔ شریف خاندان کی سوچ تھی کچھ تسلیم نہیں کرنا، جے آئی ٹی خود کرے جو کرنا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وزیر اعظم لندن فلیٹس میں جاتے رہے مگر علم کسی کو نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں