پاناما کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ درخواست گزار کی درخواست پر وزیر اعظم کو نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا

اسلام آباد (سٹی نیوز) پاناما کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ درخواست گزار کی درخواست پر وزیر اعظم کو نا اہل قرار نہیں دیا جاسکتا تھا اس لیے مزید تحقیقات کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی۔ 1993۔94 کے بعد اسحاق ڈارکے اثاثے 854 ملین تک پہنچ گئے جے آئی ٹی کی آنکھیں کھولنے کیلئے یہ کافی تھا۔
پاناما کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈار نے بیان حلفی کے ذریعے معافی مانگی، انہیں بیان حلفی دینے پر معافی ملی ، اسحاق ڈار کو پورا موقف پیش کرنے کا موقع متعلقہ فورم پر ملے گا، اگرمعاملہ ٹرائل کورٹ گیا تو اپنا موقف پیش کریں۔
جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ اسحاق ڈاراعترافی بیان کوتسلیم نہیں کرتے، اگربیان حلفی تسلیم نہیں کرتے تو اسحاق ڈار کی معافی ختم ہوجاتی ہے، نیب ریفرنس میں آپ گواہ تھے، معافی ختم ہوگئی تو کیا معاملہ دوبارہ بحال نہیں ہوگا؟۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کونیب اورایف بی آر کے ریکارڈکاجائزہ لینے کا اختیاردیا اور اس نے بغیر کسی وجہ کے نتائج اخذ نہیں کیے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ اعترافی بیان واپس لینے سے اسحاق ڈارشریک ملزم بن گئے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہ عبوری تھا، اصل فیصلہ توجے آئی ٹی رپورٹ کودیکھ کرہونا ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ 1993۔94 کے بعد اسحاق ڈارکے اثاثے 854 ملین تک پہنچ گئے، جے آئی ٹی کی آنکھیں کھولنے کیلئے یہ کافی تھا، ان اثاثوں سے اسحاق ڈار نے اپنے بچوں کو بھی رقم دی۔ جس پر طارق حسن نے کہا کہ اس بارے میں جے آئی ٹی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ حدیبیہ کیس میں اسحاق ڈار کابطورشریک ملزم ٹرائل نہیں ہوا، اسحاق ڈارحدیبیہ کیس میں شریک ملزم تھے لیکن وہ وعدہ معاف گواہ بنے، وہ عدالت سے بری نہیں ہوئے۔ طارق حسن نے کہا کہ پاناماکیس کے عبوری فیصلے میں اسحاق ڈار سے متعلق کچھ نہیں کہاگیا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ درخواست گزار کی درخواست پر ہم اس وقت نا اہل نہیں کرسکتے تھے اس لئے جے آئی ٹی بنائی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں