وزیر اعظم نے جواب نہیں دیا کہ پراپرٹی کب خریدی اور فنڈ کہاں سے آئے

اسلام آباد (سٹی نیوز ) پاناما عملدرآمد کیس کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے جواب نہیں دیا کہ پراپرٹی کب خریدی اور فنڈ کہاں سے آئے تھے۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ فلیٹس کی خریداری کے فنڈز برطانیہ کیسے پہنچے۔
تفصیلات کے مطابق جے آئی ٹی رپورٹ جمع ہونے کے بعد پاناما عملدرآمد کیس کی تیسری سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث سے استفسار کیا کہ سوال یہ تھا پراپرٹی کب خریدی گئی ، فنڈ کہاں سے آئے اور کہاں گئے؟وزیر اعظم نے کہا تھا کہ وہ سب کی منی ٹریل دیں گے۔
بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ مہینوں سے سن رہے ہیں فلیٹ ملکیت کے علاوہساری چیزیں واضح ہیں۔ اس کیس کے تمام پہلو ہم پر واضح ہیں۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ وزیر اعظم خو د کسی پراپرٹی کے مالک ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں