متنازع ریاست سکم میں چین کی سرحد کی خلاف ورزی کرنا بھارت کو بے حد مہنگا پڑگیا

نئی دلی (ویب ڈیسک) متنازع ریاست سکم میں چین کی سرحد کی خلاف ورزی کرنا بھارت کو بے حد مہنگا پڑگیا ہے کیونکہ چینی فوج کی بھاری تعداد سرحد پر پہنچ گئی ہے جہاں اس نے جنگی مشقوں کا آغاز کردیا ہے اور چینی توپوں کی گھن گرج سے بھارت کے پسینے چھوٹ رہے ہیں۔
چینی فوج کی سرحد کی جانب نقل و حرکت کے ساتھ ہی چین کی حکمران کمیونسٹ پارٹی نے بھارت کو خطرناک نتائج کی دھمکی بھی دے ڈالی ہے جبکہ یہ غیر مصدمہ خبریں بھی سامنے آرہی ہیں کہ بھارت کا پہلے ہی بھاری جانی نقصان ہوچکا ہے۔
بھارتی فوج کی جانب سے گزشتہ ماہ ریاست سکم میں چینی سرحد کی خلاف ورزی کی گئی تھی جس پر چین کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل آیا ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ سرحدی تنازعہ کسی بھی وقت ایک مکمل جنگ میں بدل سکتا ہے جس کے پیش نظر چین نے نہ صرف افواج کو سرحد کی طرف حرکت دی ہے بلکہ جنگی مشقوں کا آغاز بھی کردیا ہے، جو اس بات کا واضح اعلان ہے کہ چین جنگ کیلئے تیار ہے۔
چین اور بھارت کے درمیان حالیہ سرحدی تنازعہ 1962ء سے لے کر اب تک کا سنگین ترین تنازعہ قرار دیا جارہا ہے۔ 1962کی جنگ میں تقریباً 2 ہزار فوجی ہلاک ہوئے تھے جن کی اکثریت کا تعلق بھارتی فوج سے تھا جبکہ بھارت کے کچھ علاقوں پر بھی چین نے قبضہ کرلیا تھا۔ تقریباً نصف صدی کے بعد ایک بار پھر بھارت نے چین کی سرحد کی خلاف ورزی کی غلطی کی ہے جس پر چین سخت مشتعل ہے اور بھارت اس وقت عالمی سطح پر سفارتی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ چین کے ردعمل سے بچاجاسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں