لوگ مررہے ہیں،شہریت قانون میں ترمیم کی کیاضرورت تھی:مہاتیرمحمدکی بھارت پرتنقید

کوالالمپور: (سٹی نیوز) ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی سمٹ کانفرنس کے دوران وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھارت میں مظاہرین پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’الجزیرہ‘‘ کے مطابق ملائیشین وزیراعظم نے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظور کیے گئے متنازع ایکٹ پر احتجاج کے دوران مظاہرین پر تشدد کی شدید الفاظ میں مذمت کرنے کے بعد شہریت قانون پر شدید الفاظ میں تنقید کر ڈالی۔

یاد رہے کہ مسلمانوں کے خلاف منظور کیے گئے کالے قانون (متنازع ایکٹ ) کے بعد بھارت بھر میں شدید احتجاج جاری ہے، اس ایک ہفتے کے دوران تقریباً چودہ افراد زندگی کی بازی ہار گئے ہیں، بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر طرز کا فارمولا اپناتے ہوئے مختلف ریاستوں میں انٹرنیٹ، ایس ایم ایس، موبائل سمیت دیگر سہولیات بند کی ہوئی ہیں۔

ڈاکٹرمہاتیرمحمد کا کوالالمپور سمٹ کی سائیڈ لائن پر تنقید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ شہریت کے قانون میں ترمیم کی کیا ضرورت تھی جبکہ 70سال سے بھارتی ساتھ رہ رہے تھے، عوام اس قانون کی وجہ سے مر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یہ دیکھ کرافسوس ہوتا ہے کہ بھارت جو جمہوریت کا سب سے بڑا دعویٰ دار ہے وہاں مسلمانوں کوشہریت سے محروم کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت سیاسی رہنماؤں کو بھی گرفتار کر رہی ہے، کانگریس پارٹی کی بانی سونیا گاندھی ان کی بیٹی پریانکا گاندھی اور بیٹے راہول گاندھی سمیت بالی ووڈ اور دیگر شخصیات اس بل پر آگ بگولہ ہو گئے ہیں اور بل کو فوری طور پر واپس لینے کی صدائیں بلدن کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ملائیشین وزیراعظم بھارتی اقدامات کی مذمت کر رہے ہیں، بھارت میں جاری احتجاج سے قبل انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کیے جانے پر شدید تنقید کی تھی۔

روس میں موجود ملائیشین وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کو وزیراعظم پاکستان عمران خان نے فون کیا تھا اور کہا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے نقطہ نظر جانیں۔ اس ایونٹ کے دوران ملائیشین وزیراعظم کی نریندر مودی سے ملاقات ہوئی تھی۔ یہ ملاقات 27 ستمبر کو ہوئی تھی۔ اس معاملے پر انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار بھارتی ہم منصب کے ساتھ بھی کیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق انڈین اعتراض کے باوجود مہاتیر محمد یو این میں کی گئی تقریر پر ڈٹ گئے تھے، یو این جنرل اسمبلی میں تقریر کے دوران انہوں نے جنرل اسمبلی میں بھارت کو مقبوضہ کشمیر پر قابض قرار دیا تھا۔

میڈیا سے گفتگو کے دوران ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر کے حل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مقبوضہ وادی میں تشدد کا استعمال نہیں ہونا چاہیے، مسئلہ پر پاکستان اور بھارت کے درمیان پر امن حل نکلنا چاہیے، ملائیشیا تشدد کے خلاف ہے۔

ملائیشین وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے پر امن حل کے لیے پاکستان اور بھارت مذاکرات کریں یا پھر ثالثی کیلئے رضا مند ہوں۔

ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر چلنے والی ’بائیکاٹ ملائیشیا مہم‘ سے بھارت اور ہمارے معاشی اور باہمی تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیونکہ مجھے تقریر کے بعد کوئی فیڈ بیک نہیں ملا، میں نے مودی کو کہا تھا کہ اگر کوئی مسئلہ ہے تو مجھ سے رابطہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں