’راﺅانوار کا پروٹوکول ایساتھاجیسے حاضرسروس ہوں

اسلام آباد (ویب دیسک) نقیب اللہ محسود قتل کیس میں مفرور سابق ایس ایس ملیر گزشتہ روز پورے پروٹوکول کیساتھ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور میڈیا کے سوالات کا جواب دیئے بغیر اندر چلے گئے لیکن روسٹرم پر پہنچنے کے بعد چیف جسٹس کے ڈھیروں سوالات کا صرف ایک ہی جواب دیا۔
سینئر صحافی عدیل وڑائچ نے بتایاکہ راﺅانوار کیساتھ ایسا پروٹوکول تھا جیسے وہ حاضر سروس ہوں، سپریم کورٹ کا ایس پی سیکیورٹی اور بیسیوں اہلکارآگے پیچھے تھے، جب کمرہ عدالت میں پہنچ کراے ڈی خواجہ اور دیگر حکام کیساتھ روسٹرم پرگئے توکہاں تھے، بڑے بہادر بنتے تھے جیسے ججز کے کئی سوالات کے باوجود راﺅ کے منہ سے ایک ہی لفظ نکلا کہ ’میں بے قصور ہوں‘اور پھر اپنے وکیل کو آگے کردیا۔
انہوں نے مزید بتایاکہ پیشی کے موقع پر دوآئی جی سپریم کورٹ پہنچے ہوئے تھے، آئی جی سندھ پہلے ہی موجود تھے جبکہ اسلام آبادکے آئی جی راﺅانوار کی پیشی کا سن کر بھاگے بھاگے آئے۔یہ ڈرامائی انداز میںسارا کچھ گیارہ ساڑھے گیارہ کے بیچ ہو، اے ڈی نے بھی سکھ کا سانس لیا کیونکہ انہیں ہرپیشی پر عدالت اور صحافیوں کا سامنا کرنا پڑتاتھا

اپنا تبصرہ بھیجیں