میرے بیٹے کو میرے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا گیا، مار دیا گیا اور یہاں تک کہ تھانہ بیگم کوٹ میں خود میرے ساتھ۔۔۔“ گزشتہ روز چیف جسٹس کی گاڑی روکنے والی خاتون نے بھری عدالت میں ایسا انکشاف کردیا کہ چیف جسٹس بھی دم بخود رہ گئے

لاہور(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں گوجرانوالہ میں مبینہ پولیس مقابلے میں مارے جانے والے نوجوان کی ہلاکت کیس کی سماعت ہوئی ۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی،دوران سماعت خاتون تفصیلات بتائے ہوئے کمرہ عدالت میں آبدیدہ ہو گئی۔
خاتون نے الزام عائد کیا کہ گھرپرقبضے کیلئے پولیس نے میرا 18 سالہ بیٹامارڈالا،خاتون کا کہناتھا کہ میرے سامنے بیٹے پربہیمانہ تشددکیاگیا۔
متاثرہ خاتون کا کہناتھا کہ پولیس والے بیگم کوٹ میں مجھے زیادتی کانشانہ بناتے رہے ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جوڈیشل انکوائری میں پولیس والے مجرم قرار پائے گئے ہیں،چیف جسٹس ثاقب نثار نے تمام ملزموں کو آئندہ سماعت پر طلب کر لیا اورڈی آئی جی ابوبکر خدا بخش کو انکوائری ٹیم کا سربراہ مقرر کردیا اور انہیں بھی آئندہ سماعت پر طلب کر لیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں