پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو الزام تراشی کے ذریعہ جھٹلانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ اقدام اس وقت کیا جا رہا ہے جب امریکہ،پاکستان کے حوالہ سے اپنی پالیسی کا از سرنو جائزہ لینے میں مصروف ہے

اسلام آباد (ویب ڈیسک) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکہ اور افغانستان میں موجود بعض عناصر کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں اور کردار کو الزام تراشی کے ذریعہ جھٹلانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ اقدام اس وقت کیا جا رہا ہے جب امریکہ،پاکستان کے حوالہ سے اپنی پالیسی کا از سرنو جائزہ لینے میں مصروف ہے۔
انہوں نے افغانستان میں اتحادی فوج کے امریکی کمانڈر جنرل نکلسن سے گفتگو کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا جنہوں نے پیر کے روز ان سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی۔ اس موقع پر خطے کی سکیورٹی کی صورتحال اور بارڈر مینجمنٹ کے امور پر تبادلہ خیال سمیت پاکستان اور امریکہ نے خطے میں امن وسلامتی کے لیے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔‘آرمی چیف نے مہمان جنرل کو باور کرایا کہ ’یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان کے اس وقت یہ فضا بنائی جا رہی ہے امریکہ، پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی کا جائزہ لے رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان مثبت انداز میں دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ امریکی جنرل نے پاک فوج کے پیشہ وارانہ معاملات کو سراہا اور استحکام کے لیے پاکستان کے عوام کی کوششوں کی تعریف کی۔ پاکستان میں متعین امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل بھی ملاقات میں موجود تھے۔
آرمی چیف نے افغانستان اور امریکہ کے کچھ حلقوں میں پاکستان کیخلاف الزام تراشیوں پر تحفظات کا اظہار کیا۔ آرمی چیف نے کہا امریکہ کی طرف سے الزام تراشیوں کا یہ وقت محض اتفاق نہیں۔ الزام تراشیاں ایسے وقت کی جا رہی ہیں جب امریکی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ہمارے نزدیک دہشت گردی کو شکست دینا قومی مفاد میں ہے۔ جنرل نکلسن نے پاک فوج کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سراہا۔ امریکی کمانڈر نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاک فوج کے عزم کی تعریف کی۔ آرمی چیف نے کہا الزام تراشیاں پاکستان کی دہشتگردی کیخلاف جنگ پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ آرمی چیف نے کہا اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ ملاقات میں خطے میں امن و استحکام کیلئے کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں