ان فوجیوں نے گھر کے اندر، باہر، سڑک پر ہر جگہ ہماری عورتوں کا ریپ کیا، یہاں تک کہ۔۔۔‘ وہ خبر جسے پڑھ کر ہر مسلمان کی آنکھیں بھیگ جائیں

واشنگٹن (نیوز ڈیسک) میانمر کی شمالی ریاست راخین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد بدترین ، بڑے پیمانے پر اور ہر ہر جگہ کیا گیا ، اور اس کا مقصد روہنگیا مسلمانوں کو دہشت زدہ کر کے ان کے علاقوں سے نکالنا تھا۔ یہ بیان کسی مسلم ملک کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا، کہ جس پر روہنگیا مسلمانوں کی بے جا حمایت کا الزام لگایا جا سکے، بلکہ امریکا کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کی تحقیقات کے بعد جاری کیا ہے۔ اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان مظلوموں کو درحقیقت کیسے المیے سے دوچار کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش میں رہنگیا مسلمانوں کے پناہ گزین کیمپوں میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحقیق کاروں نے چند ماہ قبل ایک ہزار سے زائد روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کی۔ ان تباہ حال مسلمانوں کی داستانیں اس قدر دلخراش ہیں کہ جنہیں الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔

ایک 35سالہ روہنگیا مسلمان نے لرزہ خیز مظالم کا احوال بیان کرتے ہوئے بتایا کہ” ایسے ایسے ظلم ہم پر کئے گئے کہ جن کا تذکرہ کرنے کو ہمارے پاس الفاظ نہیں۔ ایک موقع ایسا بھی آیا کہ مجھے اپنے بچوں اور بوڑھی ماں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کر دیا گیا۔ خدا کسی انسان کو ایسی آزمائش سے دوچار نا کرے۔ “

ایک 25 سالہ لڑکی نے بتایا کہ ” ملٹری اور بارڈر گارڈپولیس نے میرے پانچ سالہ بچے کو میرے سامنے ذبح کر ڈالا۔ یہ صورتحال بہت خوفناک تھی میں اپنے بچوں کو نہیں بچا سکی ان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا۔“

پناہ گزین کیمپوں میں مقیم افراد میں سے تقریباً نصف کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے میانمر کی فوج کو مسلمان خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے دیکھا ہے۔ ایک ساٹھ سالہ خاتون نے بتایا کہ” ہمارے گاوں کی خواتین کی اُن کے گھروں میں عصمت دری کی گئی۔ پھر انہوں نے 100 کے قریب خواتین اور لڑکیوں کو گھروں سے نکال لیا اور سڑک پران کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرتے رہے۔ پھر وہ انہیں پہاڑوں میں لے گئے اور وہاں بھی انہیں درندگی کا نشانہ بناتے رہے۔ ان درندوں نے ہر جگہ ہمارے ساتھ یہ ظلم کیا، ہم کیا کیا بتائیں اور کس کے سامنے فریاد کریں۔“

اپنا تبصرہ بھیجیں