” ہم اب تک راﺅ انوار سے سنجیدگی سے تفتیش ہی نہیں کرسکے کیونکہ۔۔۔۔“ تحقیقاتی کمیٹی میں شامل رکن کا ایسا انکشاف کہ چیف جسٹس سمیت ہرپاکستانی حیران پریشان رہ جائے

کراچی(ویب ڈیسک) نقیب اللہ محسودقتل کیس میں نئی تحقیقاتی کمیٹی بھی سابق ایس ایس پی ملیر راو انوار کو فرار کرانے اور روپوش رکھنے میں ملوث سہولت کاروں کا تعین نہیں کرسکی۔
تحقیقاتی کمیٹی کے ممبران ملزم راو انوار سے تفتیش کے دوران کراچی سے فرار کرانے اور کراچی کے باہر روپوش رکھنے والے سہولت کاروں کاتاحال تعین نہ کر سکی جبکہ سہولت کاری کے حوالے سے کمیٹی کی سفارش پر مقدمہ درج ہے بلکہ اس حوالے سے کمیٹی میں شامل ایک ممبر نے نام ظاہر نہ کرنے پر کمیٹی ممبران کی بے بسی کو چھپاتے ہوئے بتایا کہ پی ایس ایل میچ کی مصروفیات کے سبب کمیٹی ممبران ملزم راﺅ انوار سے سنجیدگی سے تفتیش کا عمل شروع نہیں کرسکے۔
اب تحقیقاتی کمیٹی پوری سنجیدگی سے راﺅانوار سے تفتیش کرے گی جبکہ راﺅ انوار کے ریمانڈ کے بعد جو ابتدائی تفتیش ہوئی ہے اس میں بھی کوئی پیش رفت حاصل نہیں ہوسکی، اس سے قبل مقدمے کی تفتیش کرنے والے ایس ایس پی انویسٹی گیشن آفیسر عابد قائم خانی کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے جانے والے عبوری چالان میں راﺅانوار کو تفتیش اور شواہد اور ایک گواہ کے وڈیو بیان کی بنیاد پر ناصرف نقیب آ سمیت4افراد کے اغوا، جعلی مقابلے میں مارنے بلکہ مقابلے کے بعد سچائی کو چھپانے اور شہادتیں مسخ کرنے اور جعلی مقابلے کا ریکارڈ مرتب کرنے میں مرکزی ملزم ظاہر کیا گیا ہے اور بتایا گیاہے کہ ہیڈ کانسٹیبل شہزاد جہانگیر کے وڈیو بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ راﺅانوار کا یہ کہنا بے بنیاد ہے کہ وہ مقابلے سے بے خبر تھا اور وقوعہ پر موجود نہیں تھا۔
شہزاد جہانگیر جس کو موبائل ڈیٹا ریکارڈکی بنیاد پر گرفتار کیا گیا تھاکو پولیس نے گواہ طور پر اپنے چالان میں شامل کیا ہے۔ جس نے وڈیو بیان میں کہا ہے کہ میں سابق ایس ایچ او شاہ لطیف امان اللہ مروت کی جو بھی پولیس کارروائیاں ہوتی تھی اس کی لکھا پڑھی کرتا تھا اور موبائل پر میسیج بناکر امان اللہ مروت کو بھیجتا تھا اور پھر وہ آگے افسران کو ارسال کرتے تھے۔
شہزادکے وڈیو بیان کے مطابق سابق ایس ایچ او امان اللہ مروت نے13جنوری کو مجھے فون کیا اور شیدی خان گوٹھ پہنچنے کی ہدایت دی جب میں شیدی خان گوٹھ پہنچا تو وہاں دیکھا کہ پہلے سے ہی امان اللہ مروت ، اے ایس آئی گدا حسین ،ہیڈ کانسٹیبل محسن عباس، ہیڈ کانسٹیبل صداقت علی شاہ، کانسٹبل راجا شمیم، رانا ریاض، شکیل اور بہادر موقع پر موجود تھے اور 10 منٹ کے بعدگاڑیوں کا قافلہ ا?یاجس میں بکتر بند، پولیس موبائلیں اور پرائیویٹ گاڑیاں شامل تھیں جس میں سابق ایس ایس پی ملیر راو? انوار، سابق ایس ایچ او سہراب گوٹھ شعیب شیخ عرف شوٹر، اے ایس ا?ئی خیر محمد، ہیڈ کانسٹبل فیصل اور سب انسپکٹر انار خان و دیگر پولیس اہلکار اتر ے اور پولٹری فارم کے پاس کھڑے ہوگئے، پھر موبائل بکتر بند اس مکان کے مرکزی دروازے کے سامنے کھڑی ہوگئی۔
موبائل بکتر بند سے 4 افراد کو اتارا گیا جن کے چہروں پر چادر ڈالی ہوئی تھی شعیب شوٹر، اے ایس آئی خیر محمد، سب انسپکٹر انار خان، ہیڈ کانسٹیبل فیصل و دیگر پولیس اہلکار ان چاروں افراد کو اس مکان میں لے گئے اس دوران سابق ڈی ایس پی قمر احمد شیخ بھی موقع پر پہنچ گئے جو سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کے ہمراہ ٹوٹے ہوئے پولٹری فارم پر کھڑے ہوگئے اور تھوڑی ہی دیر میں مکان سے فائرنگ کی آوازیں آئی اس کے بعد قتل کیے جانے والے نقیب اللہ سمیت چاروں افراد کے حوالے سے کاغذی کارروائی کا عمل شروع کردیا اور تھوڑی ہی دیر میں ایمبولینسیں اور میڈیا بھی موقع پر پہنچ گیا جہاں سابق ایس ایس پی ملیر راﺅانوار اور سابق ڈی ایس پی قمر احمد شیخ نے میڈیاکے نمائندوں کو بریفنگ دی کہ پولیس مقابلے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے 4 دہشت گردوں کو ہلاک کرکے اسلحہ اور بارودی مواد برآمد کیاگیا ہے۔
اس بیان کے روح کے مطابق سابق ایس ایس پی راﺅ انوار، سابق ڈی ایس پی قمر احمد اور مذکورہ ٹیم ممبران نقیب اللہ محسود سمیت4افرادکے قتل میں ملوث ہے، تفتیشی ٹیم نے اپنے چالان میں بتایاکہ مقابلے کے حوالے سے انٹرویو کے تضاد، موقع کے گواہ کے بیان اور تفتیش میں بھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ راﺅ انوار نقیب سمیت چاروں افراد کو اغوا کرکے تاوان طلب کرنے اور عدم ادائیگی پر جعلی مقابلے میں مارنے میں مرکزی ملزم ظاہر ہوا ہے جس نے مقابلے کے بعد حقائق کو مسخ کرنے جعلی ریکارڈ مرتب کرنے میں بھی مرکزی کردار ادا کیا۔
نقیب کیس کی سابقہ تفتیشی ٹیم کے ایک افسر سے حاصل کی گئی معلومات عدالت میں جمع کرائے گئے عبوری چالان اور نئی تفتیشی ٹیم کے ایک افسر سے حاصل ہونے والی معلومات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم راﺅ انوار کے خلاف اب تک کی جانے والی تفتیش میں جو مواد موجود ہے۔ وہ اس کی بنیاد پر وہ آسانی سے اپنے آپ کو بچا نہیں سکتا اور سنگین جرم کے تحت کڑی سزا ہوسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئی تحقیقاتی کمیٹی بھی اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے گی جبکہ پرانی رپورٹ بھی عدالت میں موجود ہے اب عدالت خود جیسے بہتر سمجھے گی اس رپورٹ کی بنیاد پر اپنا فیصلہ دے گی۔ ذرائع کا کہناہے کہ ممکنہ طور پر نئی اور پرانی رپورٹس میں تھوڑا بہت فرق ہوسکتاہے تاہم دونوں رپورٹس ایک دوسرے کے برعکس نہیں ہوسکتیں۔
ذرائع کہتے ہیں کہ پرانی تفتیشی ٹیم کے سربراہ بھی ایڈیشنل آئی جی آفتاب پٹھان تھے اور نئی کمیٹی کے سربراہ بھی وہی ہیں تو اس لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی دوسری رپورٹ میں پہلی رپورٹ کو غلط قرار دیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں