برطانیہ میں ایک خاتون کو بلڈکینسر لاحق ہو گیا، ہر طرح کے علاج سے بھی افاقہ نہ ہوا اور وہ موت کے منہ تک جا پہنچی لیکن پھر اس نے ہلدی کا استعمال شروع کر دیا جس کے ایسے نتائج سامنے آئے کہ ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے

لندن(ویب ڈیسک) برطانیہ میں ایک خاتون کو بلڈکینسر لاحق ہو گیا، ہر طرح کے علاج سے بھی افاقہ نہ ہوا اور وہ موت کے منہ تک جا پہنچی لیکن پھر اس نے ہلدی کا استعمال شروع کر دیا جس کے ایسے نتائج سامنے آئے کہ ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے۔ ڈینکے فرگوسن نامی اس خاتون کو 2007میں بلڈکینسر ہوا۔ اس کی 3بار کیموتھراپی کی گئی اور 4بار ’سٹیم سیل‘ ٹرانسپلانٹ ہوا لیکن سب بے کار۔ افاقہ ہونے کی بجائے اس کا مرض سنگین تر ہو گیا اور اس کے بچنے کی موہوم سی امید باقی رہ گئی۔
پھر ایک روز فرگوسن نے انٹرنیٹ پر ہلدی سے کینسر کے علاج کے بارے میں پڑھا۔ باقی طریقہ ہائے علاج تو بے سود ہو ہی چکے تھے چنانچہ اس نے اسے آزمانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے پڑھا تھا کہ ہلدی میں ’کرکومین‘ (Curcumin)نامی عنصر پایا جاتا ہے جسے کھانے سے کینسر کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ عنصر ہلدی میں 2فیصد ہوتا ہے، چنانچہ خالص ہلدی کھا کر کرکومین کی مناسب مقدار حاصل نہیں کی جا سکتی تھی، لہٰذا فرگوسن نے اس عنصر کو ہلدی سے الگ کرکے اس کی گولیاں بنائیں اور روزانہ ایک گولی کھانی شروع کر دی۔ اس ایک گولی کا وزن 8گرام تھا جو دو چمچ کرکومین پاؤڈر کے برابر تھی۔
اس گولی کے کھانے سے اس کی صحت پر انتہائی حیران کن اثرات مرتب ہونے شروع ہو گئے اور اس کا کینسر، جو لاعلاج ہو چکا تھا، گھٹنا شروع ہو گیا اورآج پانچ سال کے بعد بالکل معمولی رہ گیا ہے۔ فرگوسن آج بھی کرکومین کی ایک گولی روزانہ کھا رہی ہے۔ اس گولی سے فرگوسن کو اتنی جلدی صحت ملی کہ ڈاکٹر دنگ رہ گئے اوربرٹش میڈیکل جرنل میں اس کے روبہ صحت ہونے کی رپورٹ شائع کی گئی

اپنا تبصرہ بھیجیں