’’بھٹو کو کبھی نماز پڑھتے نہیں دیکھا ،کیونکہ وہ مذہباً۔۔۔‘‘ سابق کرنل کااپنی کتاب میں سابق وزیر اعظم بھٹو کے بارے ایسا دعویٰ کہ سن کر ہر کوئی چونک اٹھے گا

لاہور(ایس چودھری) پاکستان پیپلزپارٹی کے بانی اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹوکی ذاتی شخصیت پر ہر کسی کا اپنا زاویہ نگاہ ہے ۔وہ مذہباً کن نظریات کے حامی تھی اسکا اندازہ اس دور سے کیا جاسکتا ہے جب انہیں قتل کے مقدمہ میں جیل میں بند کردیا گیا تھا ۔ جب بھٹو کوقتل کے مقدمہ میں سنٹرل جیل راوالپنڈی میں رکھا گیا تو انکی سکیورٹی کی ذمہ داری کرنل رفیع الدین کے سپرد کی گئی تھی جنہوں نے 17مئ1977ء سے 4اپریل1979ء تک سنٹرل جیل راولپنڈی میں مارشل لاء انتظا میہ کے جا نب سے سپیشل سیکیورٹی سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سر انجام دیئے ۔ انہوں نے اس عرصہ کے دوران بھٹو کو بہت قریب سے دیکھا اور ان تمام واقعات کو انہوں نے اپنی کتاب بھٹو کے آخری ایام میں قلمبند کردیا تھا ۔خاص طور پر انہوں نے بھٹو کے مذہبی معاملات کو بڑے غور سے نوٹ کیا تھا ۔وہ لکھتے ہیں ’’بھٹو صاحب کے سیکیورٹی وارڈ میں آنے سے پہلے ان کے سیل میں ایک عدد جائے نماز رکھ دی گئی تھی‘ لیکن کسی نے انہیں کبھی نماز پڑھتے نہ دیکھا۔ ان کے سیل میں آخری دن قرآن مجید کاایک چھوٹا سا نسخہ جو تقریباًً ایک انچ لمبا اور پون انچ چوڑا تھا‘ چاندی کے اتنے ہی سائز کے باکس میں بند پایا گیا‘ یہ شاید کسی نزدیکی رشتہ دار نے ان کو دیا ہو گا۔ مجھ سے بھٹو صاحب نے مذہب پر کبھی گفتگو نہیں کی۔ آخری ایّام میں جب کبھی میں نے اﷲ تعالیٰ کی بڑائی‘ اس کی رحمتوں اور بخشش کاذکر کیا تو انہوں نے کبھی بات آگے نہ بڑھائی۔
فروری یا مارچ1979ء میں ایک دن بھٹومجھے کہنے لگے ’’ دیکھو جیل سپرنٹنڈنٹ چودھری یارمحمد مجھے نصیحت کرتا ہے کہ میں نماز پڑھوں اور خدا تعالیٰ سے معافی چاہوں‘‘ میرے خیال میں انہوں نے یہ سمجھا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ ان کی ہمت اور حوصلہ توڑنا چاہتا ہے لیکن ماہ رمضان میں بھٹو صاحب نے تمام روزے باقاعدگی کے ساتھ رکھے۔ سحری اور افطار کا باقاعدہ بندوبست تھا۔ آخری رات میں نے ان کے گلے میں ایک تسبیح بھی دیکھی۔ میرے خیال میں بھٹو صاحب کا رجحان کچھ صوفی ازم کی طرف تھا اور وہ مذہبی رسومات اور نمازوغیرہ کا خاص خیال نہیں رکھتے تھے۔ مولوی صاحبان سے ان کو سخت چڑ تھی اور کہا کرتے تھے کہ پاکستان میں اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے والے یہ ان پڑھ مولوی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں