شیر خوار بیٹی کو گلے سے لٹکا کر رکشہ چلانے والا والد بھی چل بسا

نئی دہلی (ویب ڈیسک ) بھارتی ریاست راجستھا ن میں شیر خوار بیٹی کو گلے سے لٹکا کر رکشہ چلانے والا والد بھی چل بسا جس کے بعد بچی والد کی شفقت سے بھی محروم ہو گئی۔
بیوی کی وفات کے بعد بیٹی کو گلے سے لٹکا کر پیٹ پالنے کیلئے رکشہ چلانے والا شخص بھی اچانک انتقال کر گیا جس کے بعد دامنی دنیا میں بلکل تنہا رہ گئی۔دامنی کے پیدا ہوتے ہی ماں کا انتقال ہوگیاا تھا جس کے بعد پیٹ پالنے کے لیے ببلو رکشا کھینچتے تو دامنی کو بھی گلے سے لٹکتی جھولی میں ساتھ ساتھ لے کر چلتے تھے۔رکشہ کھینچنے کے سبب ببلو اپنی بیٹی کی پرورش اچھی طرح سے نہیں کر پا رہے تھے اس لیے دامنی گذشتہ چار سال سے ریاست راجستھان کے بھرت پور میں حکومت کے ماتحت ایک ادارے ‘چائیلڈ پروٹیکشن’ میں ہے۔
دامنی کے والد ببلو ایک کوٹھری میں مردہ پائے گئے جس کے بعد ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ دامنی کا اب اس دنیا میں کوئی قریبی نہیں رہا۔ اس ننھی سی جان کو تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ماں کی موت کے بعد باپ کا جو دامن اس کا پالنا بنا تھا، وہ ہمیشہ کے لیے اس دنیا کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔
دامنی کی پیدائش 2012 ء میں ہوئی تھی اور ماں ہسپتال میں ہی چل بسی۔ اس کے بعد دامنی کی پرورش کا بوجھ رکشہ کھینچ کر زندگی بسر کرنے والے ببلو پر آ گیا۔ وہ جب رکشہ لے کر نکلتے تو دامنی کو بھی باں ہوں کا جھولا بنا لیتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں