سرکاری ملازمین, پینشنرز اور حکومتی نظام

ایسٹ انڈیا کمپنی کا مغلیہ بادشاہت پر قبضے کرنے کے بعد برصغیر پاک و ہند میں بادشاہت برطانیہ کا دور شروع ھوا اس دور میں انگلستان کے بادشاہی نظام نے ہندوستان یعنی برصغیر پاک و ہند میں نوکر شاہی نظام متعارف کرایا اور اس نظام کے تحت اس خطےمیں کئی سال حکومت کی۔انگلستانی بادشاہت نے اس خطے کیلئے غریب و کمزور اور مغلوبوں کیلئے قید بھری زندگی مشکلات و اذیت ناک قوانین رائج کئے اور اپنے افسران و معاونین کیلئے سہولتوں بھرے پکیج کے انبار لگادیئے جو آج بھی موجود ہیں جن کی تفصیل کچھ سطور کے بعد پیش کرونگا۔ تقسیم ہندوستان کے بعد بھی قیام پاکستان میں وہی نظام نوکر شاہی تاحال جاری ہیں اسی وجہ سےنوکر شاہی طبقے میں طبقاتی اثرات اور حق تلفیوں کی بھرمار ہے ھونا تو یہ چاہئے تھا کہ قانون ساز اسمبلیوں وفاق صوبائی ایوانوں اور سینیٹ سے نئے اسلامی طرز پر قانون منظور کراتے ھوئے پاکستان کے نوکر شاہی طبقے میں عدل و انصاف استحکامِ حقوق اور انسانی مساوات کیلئے راہیں ہموار کی جاتیں لیکن ایسا کبھی بھی نہیں ھوا اور نہ ہی مستقبل قریب میں ھوتا ھوا نظر آرہا ھےکیونکہ نوکرشاہی طبقے کو اشرافیہ نے غلامی کی زنجیروں میں جگڑا ھوا ھے اور اس سے جہاں اداروں کی آزادی سلب کی ہوئی ہیں وہیں اپنے عیش و تعائش کیلئے نوکر شاہی طبقے کو کسی کمتر مخلوق کی طرح استعمال کیا جاتا ھے جبکہ نوکر شاہی طبقہ ریاست کے تابع ھے اور اسے ملک و قوم اور ریاست پاکستان کی سلامتی بھلائی اور ترقیاتی امور میں سچائی اور مخلصی کیساتھ شب و روز مصروف رہنا چاہئے لیکن ایسٹ انڈیا کے ظالمانہ قوانین کی وجہ سے یہ بے بس ہیں۔ اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد تمام صوبے خود مختار ہوچکے ہیں اور یہ اپنی اپنی صوبائی اسمبلیوں سے قانون میں ترامیم کاحق رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے مسائل جوں کے توں ہیں البتہ خبر کی حد تک ایسی ترمیم کی جانب جارہے ہیں جس میں کم تنخواہ دار کم عہدے کے ملازمین مزید پس کر رہ جائیں گے۔معززقارئین!!اٹھارہ ویں ترمیم کے بعد وفاق سکڑ کر رہ گیا ھے مگر پھر بھی بے انصافی حق تلفی کا بازار یہاں بھی سرگرم ھے تو سوچئے صوبائی حکومتوں میں کس حد تک سرکاری ملازمین تنخواہوں اور ترقی کی مد میں پریشان رہتے ہونگے یہاں سرکاری وفاقی و صوبائی پینشنرز کو قطعی فراموش نہی کرسکتے کیونکہ وہ ان سب سے زیادہ متاثر ترین ہیں کیونکہ پینشنرز کی ایک تو عمریں زیادہ ھوجاتی ہیں دوسرا یہ کہ کمزوری اور بیماریاں چاروں طرف سے گھیرے میں لے لیتی ہیں اسی سبب وہ آہ! بھی نہیں کرسکتے ان کی داد رسی نہ کرنا بےحسی کی تمام حدیں پار ہوجائیں گی اور انسانیت پر تمانچہ بھی ۔۔ معزز قارئین!! اب میں ذکرکرتا ھوں وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں موجود تفاوت اور امتیازی فرق کا۔آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہوگی کہ وفاق میں مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں میں زمین آسمان کا فرق ھے۔مثال کے طور پر سپریم کورٹ کے ملازمین کی تنخواہوں تین گنا ہیں مطلب انکو دوبنیادی تنخواہیں اضافی دی جاتی ہیں۔ ہائی کورٹس، لوئر کورٹس کی ڈبل تنخواہیں ہیں ساتھ یوٹیلیٹی الاؤنس بھی دیا جاتا ھے۔ پولیس، اسپتالوں میں کام کرنے والے صحت سے وابستہ ملازمین، ایف بی ار جیسےاداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں بھی ڈبل ہیں۔اس کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ اف پاکستان میں کام کرنے والے ملازمین آجاتے ہیں جن کو تنخواہ کے علاوہ یوٹیلیٹی الاؤنس اور سیشن الاؤنس دیا جاتا ھے۔ جتنے دن قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس ہوگا اتنے دن کا سیش الاؤنس دیا جائیگا جو بنیادی تنخواہ سے زیادہ بن جاتا ھے۔ (سیسش الاؤنس کتنا ہوتا ھے ایک چھوٹی سی مثال گریڈ نائن میں کام کرنے والے ملازم کو تیئس دن کا سیشن الاؤنس تیس ہزار ملا۔) اس کے بعد وہ وفاقی ادارے آجاتے ہیں جن کے پے اسکیل ایس پی ایس ہیں ان میں اٹامک انرجی اور کونسلیں ہیں جیسے کشمیر کونسل، زرعی ترقیاتی کونسل وغیرہ ان اداروں کے ملازمین کی تنخواہیں عام وفاقی ملازمین سے کئی گنا زیادہ ہیں وجہ اسپیشل اسکیلز ہیں۔ لوئر اسکیلز میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں کچھ سال میں لاکھ تک پہنچ جاتی ھے اس کے بعد وفاقی حکومت کے وہ ادارے ہیں جوکارپوریشنز ہیں جیسے پی ٹی سی ایل، او جی ڈی سی ایل وغیرہ یہاں پر بھی کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہیں عام وفاقی ملازمین سے کئی گناہ زیادہ ہیں کیونکہ انکا اپنا تنخواہ کی ساخت یا ڈھانچہ یا طریقہ کار ھے۔ اس کے بعد وفاقی وزارتوں اور ڈویژنوں میں کام کرنے والے ملازمین آتے ہیں جیسے کہ کیبنٹ ڈویژن، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وفاقی منسٹریز ان میں کام کرنے والے ملازمین کو صرف ایک اسپیشل اضافی الاؤنس ملتا ھے جو سنہ دو ہزار تیرہ میں بیس فیصد دیا گیا تھا۔اس کے بعد وفاقی ملازمین کی سب سے کم تنخواہ لینے والا گروپ آجاتا ھے یہ وہ ملازمین ہیں جو منسلک یا ملحق ڈیپارٹمنٹس میں کام کرتے ہیں جیسے کہ وفاقی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے ملازمین، پی ڈبلیو ڈی کی ملازمین دیگر ایسے ڈیپارٹمنٹس جو کیبنٹ ڈویژن اور مختلف وزارتوں کے انڈر کام کررہے ہیں یہ وہ ملازمین ہیں جن کو کوئی اضافی الاؤنس نہیں مل رہا سنہ دو ہزار تیرہ میں بھی جو اسپیشل الاؤنس دیا گیا تھا وہ منسلک یا ملحق ڈیپارٹمنٹس کو نہیں دیا گیا تھا صرف منسٹریز کو ڈویژنوں کو دیا گیا تھا۔ یہاں پر صرف وفاق میں کام کرنے والے ملازمین کی بات ہو رہی ھے یہ کتنا ظلم ھے سپریم کورٹ کو ڈرائیور بھرتی ہونے پر جتنی تنخواہ لیتاھے اتنی ہی تنخواہ ایف پی ایس سی سے گریڈسولہ میں جوکسی منٹسری ڈویژن میں بھرتی ہوتا ھے لیتا ھے۔ وفاق میں اصل مسئلہ ملازمین کی تنخواہوں میں تفاوت یعنی فرق ھے جس کو ختم کرناچاہیے اور ایک پے اسکیل سسٹم پورے پاکستان میں ہونا چاہیے نیشنل پے اسکیل این پی ایس تاکہ یہ امتیازی پے اسکیل سسٹم ختم ہو سکے۔۔۔۔ معزز قارئین!! آپ یقین جانیئے جب تک نوکر شاہی طبقے کے تمام منصب پر فائز ملازمین کی تنخواہ و مراعات اور پینشن رائج الوقت کرنسی کی اہمیت اور مہنگائی کے تقابلی توازن کیساتھ متعین کی جائیں تو کوئی شک و شبہ نہیں سفید پوش نوکر شاہی طبقہ رشوت اور حرام کمائی کی جانب ہرگز نہیں بھٹکے گا نظام کی درستگی منتخب نمائندگان پر براہ راست ہوتی ھے اور قانون بنانے میں سستی کاہلی یا منفی اثرات شامل کرنے والے ایسے ممبران ملک و قوم کے مجرم ہوتے ہیں اور غداری کے مرتکب بھی لیکن افسوس ایسے ممبران آج قابل تعظیم اور قابل احترام بنائے جاتے ہیں یقیناً اس میں قوم بھی قصوروار ھے۔۔۔۔!!

اپنا تبصرہ بھیجیں