شہباز شریف انتخابات تک وزیر اعظم ہوں گے اور اگر مسلم لیگ ن انتخابات جیت گئی تو وہ مستقل ہو جائیں گے

لاہور (سٹی نیوز) سینئر صحافی و کالم نویس مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ پنجاب میں رانا ثنا اللہ اور مجتبیٰ شجاع الرحمان کے ناموں پر وزارت عالیہ کیلئے غور کیا جا رہا ہے جبکہ حمزہ شہباز اس دوڑ میں شامل نہیں ہیں۔ شہباز شریف انتخابات تک وزیر اعظم ہوں گے اور اگر مسلم لیگ ن انتخابات جیت گئی تو وہ مستقل ہو جائیں گے جبکہ پنجاب کے مستقل وزیر اعلیٰ کیلئے چوہدری نثار کے نام پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا معاملہ اس وقت مسلم لیگ کی صفوں میں کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ جس کو بھی نواز شریف چاہیں گے وہ وزیر اعلیٰ بن جائے گا۔ مجتبیٰ شجاع الرحمان اور رانا ثناء اللہ میں سے کسی ایک پر نگاہیں ٹکی ہوئی ہیں ، حمزہ شہباز فہرست میں نہیں ہیں، شہباز شریف کی موجودگی میں بھی مسلم لیگ کے تنظیمی و دیگر معاملات وہی دیکھ رہے تھے اس لیے ان کا کردار ختم نہیں ہوگا بلکہ وہ پس پردہ ہی کام کرتے رہیں گے۔ شہباز شریف کے بعد انتخابات تک وزیر اعلیٰ لایا جائے گا جس کے بعد اگلے وزیر اعلیٰ کیلئے غور کیا جائے گا اور اس وقت حمزہ شہباز کا نام سامنے آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اسمبلی میں اتنے نہیں جاتے اس لیے رانا ثنا اللہ عملاً قائد ایوان ہیں اور ارکان اسمبلی سے بھی ان کا گہرا رابطہ ہے، ان کی اپنی اہمیت ہے مگر اسٹیبلشمنٹ میں ان کیلئے کوئی اچھے جذبات نہیں پائے جاتے، مجتبیٰ شجاع الرحمان بھی پرانے لیگی ہیں جن کا مضبوط سیاسی گھرانہ ہے، ان کی طرف بھی نگاہ انتخاب اٹھ سکتی ہے۔
چوہدری نثار کے مستقبل میں کردار کے حوالے سے مجیب الرحمان شامی کا کہناتھا کہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ انتخابات تک بنے گا اور آئندہ اگر مسلم لیگ کا مستقل وزیر اعلیٰ منتخب ہوا تو بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اگلے مستقل وزیر اعلیٰ چوہدری نثار ہوں گے۔ یہ چوہدری نثار پر منحصر ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں مرکز میں کردار پسند کریں گے یا صوبے کی طرف آئیں گے۔ اگر وہ مرکز میں رہے تو وزیر خارجہ ہو سکتے ہیں اور اگر صوبے میں گئے تو وزیر اعلیٰ ہو سکتے ہیں۔ وہ پہلے بھی نواز شریف سے وزارت خارجہ کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں، لیکن انہیں وزیر داخلہ بنایا گیا تاہم انہوں نے اس پر بھی بڑا موثر کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی این اے 120 میں بہت زیادہ طاقت ہے اور ایئر مارشل اصغر خان بھی ان سے یہاں سے شکست کھا چکے ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد اچھے اتحاد کے ساتھ الیکشن لڑیں گی تو مقابلہ دلچسپ ہو سکتا ہے لیکن 40 ہزار کے مارجن کو آسانی سے کم نہیں کیا جا سکے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں