مہنگائی کا نیا طوفان، پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ کر دیا گیا

اسلام آباد:حکومت نے عوام پر پٹرول بم گراتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں 6 روپے فی لٹر جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 6 روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مٹی اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں تین روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے قیمتوں میں اضافے کی سمری تیار کر کے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی تھی جس میں پٹرول کی قیمت میں 11 روپے 92 پیسے، ہائی سپیڈ ‏ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 17 پیسے فی لٹر، ‏مٹی کے تیل کی قیمت میں 6 روپے 65 پیسے فی لٹر اور ‏لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت میں 6 روپے 50 پیسے اضافے کی تجویز کی گئی تھی۔
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کی حتمی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 98 روپے 89 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 117 روپے 43 پیسے، مٹی کے تیل کی نئی قیمت 89 روپے 31 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 80 روپے 54 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے، اس وقت سے اب تک گزشتہ سات ماہ میں تیسری مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
31 اکتوبر 2018ء کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 6 روپے تک اضافے کا اعلان کیا تھا۔ سال نو کے آغاز میں حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 4 روپے 86 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 26 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 52 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 16 پیسے فی لیٹر کم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس کے بعد وفاقی حکومت نے 28 فروری کو جاری نوٹی فکیشن میں پٹرول کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے، لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 50 پیسے، مٹی کے تیل کی قیمت میں 4 روپے اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے 75 پیسے اضافہ کیا تھا۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 92 روپے 88 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت 111 روپے 43 پیسے، لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 77 روپے 53 پیسے اور مٹی کے تیل کی نئی قیمت 86 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہو گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں