‘فوجی عدالتوں میں توسیع سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے پر منحصر ہے’

اسلام آباد: فواد چودھری کا کہنا ہے فوجی عدالتوں کی آئینی مدت مکمل ہوگئی، فوجی عدالتوں میں توسیع سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے پر منحصر ہے، حکومت اپوزیشن کو منانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بی بی سی سے گفتگو میں وزیر اطلاعات فواد چودھر ی نے کہا حکومت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی، اگر باقی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اب توسیع کی ضرورت نہیں ہے تو یہ توسیع نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا حکومت سمجھتی ہے کہ ملک کو فوجی عدالتوں کی اب بھی ضرورت ہے، دہشت گردی کو مکمل شکست دینے کے بہت قریب ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ توسیع ضروری تھی اور اب بھی بہت اچھا ہو گا کہ یہ توسیع دوبارہ دی جائے۔
پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے فوجی عدالتوں کے معاملے پر بی بی سے اپنے موقف سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا ان کی جماعت کا اس معاملے پر موقف بالکل واضح ہے کہ وہ ان عدالتوں کی حمایت نہیں کرتی، وہ ایک متوازی نظام عدل اور کسی بھی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کرتے جو آئین کے دیئے گئے بنیادی حقوق کی نفی کرتا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت اس معاملے پر بات کرنا چاہتی ہے تو ان کی جماعت فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی وجوہات کے بارے میں حکومتی دلیل سننے کے بعد اس معاملے پر دوبارہ بھی سوچ سکتی ہے۔
یاد رہے پاکستان میں فوجی عدالتوں کی دو سالہ آئینی مدت کل مکمل ہوچکی ہے، فوجی عدالتیں پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت 2015 میں قائم کی گئیں تھیں۔ یہ عدالتیں ابتدائی طور پر 2 سال کی مدت کے لیے قائم ہوئیں، مارچ 2017 میں مسلم لیگ نون کی حکومت نے 23 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ان کی مدت میں 2 سال کی تو سیع کی تھی۔
قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے اعداد و شمار کے مطابق وزارت داخلہ نے فوجی عدالتوں کو دہشت گردی کے 700 سے زیادہ مقدمات ارسال کیے جن میں سے 478 مقدمات کے فیصلے کیے جا چکے اور 284 مجرمان کو سزائے موت سنائی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں