’میں یونیورسٹی کا ٹوائلٹ استعمال کرنے گئی تو وہاں فرش پر لکھا تھا کہ یونیورسٹی کی لڑکیاں۔۔۔‘ طالبہ نے ایسا شرمناک انکشاف کردیا کہ کھلبلی مچ گئی

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) جنسی زیادتی کے خلاف دنیا بھر میں چلنے والی مہم ’می ٹو‘ کے متعلق ایک بحث چھڑی ہوئی ہے۔کوئی اس کے حق میں دلائل دے رہا ہے تو کوئی مخالفت میں دور کی کوڑی لا رہا ہے۔ حتیٰ کہ معروف آسٹریلوی خاتون مصنف جرمین گریئر نے تو جنسی زیادتی کو جرم کے زمرے سے ہی نکالنے اور اس کے مرتکب مردوں کو قید کی سزا نہ دینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ ایسے میں گزشتہ روزبرطانیہ کی نوٹنگھم یونیورسٹی کے ایک ٹوائلٹ کے فرش پر کسی نے اس حوالے سے ایسا فقرہ لکھ دیاہے کہ یونیورسٹی میں کھلبلی مچ گئی۔ میل آن لائن کے مطابق یونیورسٹی کی 20سالہ طالبہ وکٹوریہ نے اس فقرے کی تصویر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی ہے ، جس میں لکھا ہے کہ ’’یونیورسٹی کی لڑکیاں جنسی زیادتی کو بہت پسند کرتی ہیں۔‘‘

وکٹوریہ نے اس ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ’’میں ٹوائلٹ استعمال کرنے گئی تو سامنے فرش پر کسی نے ٹشوپیپر گیلا کرکے اس سے یہ الفاظ بنا دیئے تھے۔ میں حیران ہوں کہ کس کے پاس اتنا وقت تھا جس نے یہ انتہائی قابل نفرت کام کیا۔ کسی کی اس حرکت پر یونیورسٹی کی طالبات شدید خوفزدہ بھی ہیں اور غصے میں بھی۔‘‘ وکٹوریہ کی پوسٹ کی گئی اس تصویر پر کمنٹس میں صارفین کا کہنا ہے کہ ’’یہ جس کسی کا بھی کام ہے اس نے انتہائی گھٹیا حرکت کی ہے، اس کا سراغ لگا کر فوری طور پر اسے یونیورسٹی سے نکال دیا جانا چاہیے۔‘‘دوسری طرف یونیورسٹی کے ترجمان نے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے بتایا ہے کہ انتظامیہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ذمہ دار شخص کے خلاف سخت اقدام اٹھایا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں