ماحول کی حفاظت کیلیے 800 کلومیٹر الٹے قدموں سفر کرنے والا شخص

جکارتہ: انڈونیشیا کے ایک باہمت شخص نے ماحول کے تحفظ کے لیے ایک انوکھا، عجیب اور الٹا قدم اٹھایا ہے ۔ انہوں نے الٹے قدموں کا سفر شروع کردیا ہے اور 800 کلومیٹر پیدل چل کر صدرِ مملکت تک اپنا پیغام پہنچائیں گے۔

43 سالہ میڈی باسٹونی نے پشت کی سمت الٹے چلتے ہوئے اپنا سفر 18 جولائی کو شروع کیا اور اب وہ 17 اگست کو ایوانِ صدر پہنچیں گے۔ اس تاریخ کو انڈونیشیا کا 74 واں یومِ آزادی بھی ہے۔ اپنی آخری منزل میں وہ صدر جوکو وائیڈوڈو سے ملیں گے ۔ وہ صدر سے ایک علامتی بیج مانگیں گے جسے وہ اپنے گاؤں کے پاس ایک جنگل میں بوئیں گے۔ اس طرح وہ بارانی جنگلات کےتحفظ کی مہم کا آغاز کریں گے۔


انہوں نے بتایا کہ ماحول دوست تنظیمیں پہلے ہی اس جنگل کو بچانے کی کوششیں کررہی ہیں لیکن صدر کی تائید سے اسے بھرپور پذیرائی ملے گی اور مزید لوگ اپنا ہاتھ بٹائیں گے۔ اسی لیے میڈی نے الٹے قدموں کا سفر شروع کیا ہے اور روزانہ 30 کلومیٹر کا سفر مکمل کرتےہیں۔ الٹے قدموں چلتے ہوئے وہ اپنا راستہ عقبی آئینے سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی پشت پر 8 کلوگرام وزنی بیگ ہے جس میں ضروری سامان ہے جبکہ ان کے پاس صرف چار ہزار روپے کے برابر رقم ہے۔
ویب ڈیسک جمعرات 1 اگست 2019
شیئرٹویٹشیئرای میل تبصرے
مزید شیئر
انڈونیشیا کا میڈی باسٹونی 800 کلومیٹر الٹا چلتے ہوئے صدرِ مملکت کے پاس پہنچیں گے تاکہ جنگلات کا تحفظ کیا جاسکے۔ فوٹو: انڈونیشیا ٹائمز
انڈونیشیا کا میڈی باسٹونی 800 کلومیٹر الٹا چلتے ہوئے صدرِ مملکت کے پاس پہنچیں گے تاکہ جنگلات کا تحفظ کیا جاسکے۔ فوٹو: انڈونیشیا ٹائمز

جکارتہ: انڈونیشیا کے ایک باہمت شخص نے ماحول کے تحفظ کے لیے ایک انوکھا، عجیب اور الٹا قدم اٹھایا ہے ۔ انہوں نے الٹے قدموں کا سفر شروع کردیا ہے اور 800 کلومیٹر پیدل چل کر صدرِ مملکت تک اپنا پیغام پہنچائیں گے۔

43 سالہ میڈی باسٹونی نے پشت کی سمت الٹے چلتے ہوئے اپنا سفر 18 جولائی کو شروع کیا اور اب وہ 17 اگست کو ایوانِ صدر پہنچیں گے۔ اس تاریخ کو انڈونیشیا کا 74 واں یومِ آزادی بھی ہے۔ اپنی آخری منزل میں وہ صدر جوکو وائیڈوڈو سے ملیں گے ۔ وہ صدر سے ایک علامتی بیج مانگیں گے جسے وہ اپنے گاؤں کے پاس ایک جنگل میں بوئیں گے۔ اس طرح وہ بارانی جنگلات کےتحفظ کی مہم کا آغاز کریں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ماحول دوست تنظیمیں پہلے ہی اس جنگل کو بچانے کی کوششیں کررہی ہیں لیکن صدر کی تائید سے اسے بھرپور پذیرائی ملے گی اور مزید لوگ اپنا ہاتھ بٹائیں گے۔ اسی لیے میڈی نے الٹے قدموں کا سفر شروع کیا ہے اور روزانہ 30 کلومیٹر کا سفر مکمل کرتےہیں۔ الٹے قدموں چلتے ہوئے وہ اپنا راستہ عقبی آئینے سے دیکھتے ہیں ۔ ان کی پشت پر 8 کلوگرام وزنی بیگ ہے جس میں ضروری سامان ہے جبکہ ان کے پاس صرف چار ہزار روپے کے برابر رقم ہے۔

وہ سفر کے دوران مسجد، پولیس اسٹیشن یا کسی چوکی پر ٹھہرتے ہیں اور ان کی الٹی علامتی چال کا مطلب ہے کہ قوم پیچھے مڑ کر دیکھے کہ وہ کون سے ہیروں تھے جنہوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں