سپر ہائی وے ڈیمز میں شگاف، گرڈ اسٹیشن، آبادیاں اور مویشی منڈی زیر آب

کراچی: لٹھ اور تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے سپرہائی وے سے متصل کے ڈی اے گرڈ اسٹیشن ، رہائشی گوٹھ ، سوسائٹیاں اور مویشی منڈی کا بیشتر حصہ زیر آب آگیا۔

گڈاپ ٹاؤن میں لٹھ ڈیم اور تھڈو ڈیم میں شگاف پڑنے سے برساتی پانی کا ریلا سپر ہائی وے تک پہنچ گیا جس کسے باعث کراچی سے حیدرآباد جانے والا ٹریک زیر آب آگیا اور ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا، سیلابی ریلا موٹروے ایم نائن کے نیچے پانی کی نکاسی کے راستوں سے ہوتا ہوا سعدی گارڈن گلشن عثمان ، سعدی ٹاؤن ، اسکیم 33 میں کے ڈی اے گرڈ اسٹیشن سے ہوتا ہوا مدینہ کالونی اور اس کے اطراف میں درجن سے زائد گوٹھوں میں داخل ہوگیا۔

اسکیم 33 میں کے الیکٹرک کے 220 کے وی کے گرڈ اسٹیشن میں بھی پانی بھرجانے کی وجہ سے ہنگامی صورتحال پیدا ہوگئی، فوج کے دستوں نے مٹی کے بند بناکر مزید پانی گرڈ اسٹیشن میں داخل ہونے سے روکا مگر پمپ کی مدد پہلے سے جمع پانی کو نکالنے میں 18 گھنٹے سے زائد وقت لگ گیا۔
صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے فوج نے ریسکیو آپریشن شروع کردیا فوج کے جوانوں نے سب سے پہلے گرڈ اسٹیشن کے چاروں طرف مٹی کے ڈھیر لگاکر پانی کے جانے کا راستہ روک کر گرڈ اسٹیشن سے پانی کی نکاسی شروع کردی، سیلابی ریلے کے راستے میں آنے والے گوٹھوں کے مکینوں کو لائف بوٹ کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کردیا۔

ریسکیو آپریشن میں فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ، این ایچ اے اور علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے حصہ لیا، پانی کی نکاسی کے بعد کئی گھنٹے معطل رہنے والے سپر ہائی وے کے ٹریک کو ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔

مدینہ کالونی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ سعدی گارڈن میں اثر رسوخ والے لوگ رہتے ہیں جس کے باعث سپرہائی وے سے آنے والا پانی وہاں سے جانے سے روک کر مویشی منڈی ، اور سپر ہائی وے کے اطراف میں واقع گوٹھوں کی طرف موڑ دیا گیا ہے جس سے علاقے کے گھروں میں پانی داخل ہوگیا ان کا کہنا تھا کہ پانی کے آنے کی رفتار کو دیکھتے ہوئے علاقے کے بیشتر رہائشیوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے جبکہ گھر کا ایک فرد صرف چوکیداری کے لیے رک گیا ہے۔

لٹھ ڈیم اور تھڈو ڈیم سے برساتی پانی کے ریلے نے ضلع ملیرکی اسکیم 33 کے کئی علاقوں میں تباہی مچادی، سعدی ٹاؤن، سعدی گارڈن، مدینہ کالونی، عبداللہ شاہ غازی گوٹھ جی بلاک، قریشی سوسائٹی، محمد خان گوٹھ، گلشن عثمان، پی ایس 99 اور پی ایس 100 کی کئی آبادیوں میں برساتی ریلا گھس گیا۔

منگل کی شب لٹھ اور تھڈو ڈیم سے آنے والے برساتی پانی نے چند گھنٹوں میں ہی ان علاقوں کو دریا میں بدل دیا، سعدی ٹاؤن اور مدینہ کالونی کے مکینوں کا کہنا تھا کہ مویشی منڈی کے ایک بیوپاری نے بتایا کہ وہ ڈھرکی سے 35 جانور کے ساتھ منڈی آیا تھا جہاں منڈی میں اس نے 38 نمبر بلاک میں 80 ہزار روپے میں جگہ حاصل کی تھی۔

انتظامیہ نے جگہ دیتے وقت تمام سہولتیں دینے کا وعدہ کیا تھا تاہم سیلاب کے آتے ہی انتظامیہ کہیں نظر نہیں آرہی اس نے بتایا کہ وہ اپنی 10 گائے بمشکل پانی میں سے نکال سکا ہے جبکہ دیگر گائے اور کھانے پینے کا سامان وہیں پھنسا ہوا ہے گھوٹکی کے بیوپاری کا کہنا تھا کہ سیلاب کے باعث 100 کے قریب بیل اور گائیں مرچکی ہیں مویشی منڈی کے کوآرڈی نیٹر نے ایکسپریس کو بتایا کہ38 نمبر بلاک کے کوئی پیسے نہیں لیے گئے وہ جگہ بیوپاریوں کو فری دی گئی ہے۔

کراچی میں پیر اور منگل کو ہونے والی موسلادھار بارشوں کے بعد سپر ہائی وے پر سبزی منڈی بھی زیر آب آگئی، سبزی منڈی میں پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گھٹنوں گھٹنوں پانی جمع ہوگیا، گندگی اور کچرے نے کیچڑ کی شکل اختیار کرلی،کیچڑ سبزی منڈی کی گلیوں میں دور تک پھیلا ہوا ہے۔

سبزی سیکشن کے تاجروں کے مطابق مارکیٹ کمیٹی انٹری اور دکانوں کے کرایے کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرتی ہے لیکن نکاسی آب کا نظام بہتر نہیں بنایا جاتا سبزی سیکشن کی گلیاں کچی ہیں اس لیے بارشوں کے علاوہ عام دنوں میں بھی یہاں پانی کھڑا رہتا ہے۔

حالیہ بارشوں میں منڈی میں جگہ جگہ بارش کا پانی کھڑا ہے منڈی کے داخلی دروازوں پر گڑھوں میں بارش کا پانی اور کیچڑ جمع ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہے، منڈی میں صفائی اور پانی کی نکاسی نہ ہونے پر آلودہ ماحول میں ہی سبزیاں فروخت کی جارہی ہیں جس سے بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ہے، منڈی میں جگہ جگہ گندگی اور گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جن سے بدبو اور تعفن اٹھ رہا ہے۔

تاجروں کے مطابق منڈی میں کاروبار کے لیے آنے والوں کا اپنی دکانوں تک پہنچنا محال ہوگیا ہے ایسے میں شہر سے کوئی خریدار کیسے آئے گا، دکانوں کے سامنے پانی کھڑا ہے اور دکانوں کے تھڑوں پر کیچڑ پھیل گئی ہے آڑھتی مال اونے پونے فروخت کررہے ہیں۔

ملیر ندی : برساتی ریلا آنے سے کورنگی کا رابطہ شہر سے کٹ گیا

بدھ کی صبح ملیر ندی سے برساتی پانی کا بڑا ریلا گزرنے کے باعث کورنگی کاز وے اورکورنگی کراسنگ روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا ہے جس کے باعث کورنگی صنعتی ایریا جانے والے 2 مرکزی راستے بند ہونے سے بلوچ کالونی پل ،ایکسپریس وے،قیوم آباد چورنگی،کورنگی کراسنگ،کورنگی روڈ، بروکس چورنگی اور ڈیفنس روڈ پر بدترین ٹریفک جام ہوگیا، گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور صبح سویرے دفاتر اور روز مرہ کے کاموں کے لیے گھر سے نکلنے والے ہزاروں شہری ٹریفک جام میں پھنس گئے۔

کورنگی صنعتی ایریا جانے کے لیے واحد راستہ قیوم آباد چورنگی سے جام صادق پل ہے جہاں ٹریفک کا شدید دبائو ہے ٹریفک جام میں پھنسے شہریوں کی مدد کے لیے ٹریفک اہلکار سڑکوں پر موجود رہے لیکن صورتحال ٹریفک پولیس اہلکاروں کے بس سے باہر رہی، قیوم آباد چورنگی اور ایکسپریس وے پر جگہ جگہ بارش کا پانی جمع ہونے اور نکاسی نہ ہونے سے ٹریفک کے مسائل میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ٹریفک پولیس حکام کے مطابق ٹریفک پولیس نے کے پی ٹی انٹرچینج اورجام صادق پل کے درمیان جمع پانی کی نکاس کے لیے ہیوی مشینری سے فٹ پاتھ توڑ کر پانی کو نکالا جا رہا ہے۔

برساتی ریلے میں 2 بچے ڈوب کر ہلاک، ایک لاپتہ، دوسری بچی کو بچا لیا گیا

سپر ہائی وے نیو سبزی منڈی پاور ہاؤس کے قریب برساتی پانی کے ریلے میں کمسن لڑکا ڈوب گیا جس کی اطلاع پر ایدھی کے غوطہ خور موقع پر پہنچ گئے اور سخت جدوجہد کے بعد ڈوبنے والے لڑکے کی لاش نکال کر قریب ہی اسپتال پہنچائی جہاں متوفی کی شناخت 3 سالہ امجد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ اسی علاقے کا رہائشی تھا،ملیر میمن گوٹھ عثمان خاصخیلی گوٹھ میں برساتی پانی کے ریلے میں 2 بہنیں ڈوب گئیں جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی بحری خدمات کے رضا کاروں نے موقع پر پہنچ کر ڈوبنے والی 12 سالہ مسکان دختر حکیم کی لاش نکال لی۔

دوسری بہن کو تشویش ناک حالت میں نکال کر قریب اسپتال پہنچایا جہاں ڈاکٹر اس کی جان بچانے کی کوششیں کر رہے ہیں ،اسکیم 33 کے قریب برساتی پانی میں نوعمر لڑکا ڈوب کر لاپتہ ہوگیا جس کی اطلاع ملتے ہی ایدھی کے رضا کار موقع پر پہنچ گئے، اس کی تلاش شروع کر دی تاہم کامیابی نہ مل سکی۔

واضح رہے کہ پیر سے شروع ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے بعد شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی جمع ہے ،بلدیاتی اداروں اور واٹر بورڈ کی جانب سے نکاسی آب کے انتظامات نہ کیے جانے کے باعث برساتی پانی میں کمسن بچے اور راہ گیر ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔

شہرمیں 172ملی میٹر بارش ریکارڈنارتھ کراچی میں88 ملی میٹر بارش ہوئی

محکمہ موسمیات کے مطابق سرجانی ٹاون میں 2مختلف مراحل کے دوران 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہے،اس سے قبل محکمہ موسمیات کی جانب سے زیادہ سے زیادہ 164 ملی میٹر بارش ہونے کی پیش گوئی کی گئی تھی تاہم منگل اور بدھ کی درمیانی شب سرجانی ٹائون میں مزید بارش ریکارڈ ہوئی، سب سے کم بارش کیماڑی میں 31.3ملی میٹر(ڈیڑھ انچ کے لگ بھگ) ریکارڈ ہوئی۔

شہر کے دیگر علاقوں نارتھ کراچی88،گلشن حدید78، بیس فیصل 87،یونیورسٹی روڈ 74.6،جناح ٹرمینل 69.4 ،بیس مسرور82،ناظم آباد 65.7، لانڈھی59، ایئرپورٹ 62.3ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں