فدائے عشقِ رسولؐ۔۔۔غازی علم دینؒ شہید!

بیسیوں صدی کے اوائل میں انگریزوں نے جنگِ عظیم دوئم کے بعد تحریکِ آزادیء ہند کو، جو کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کی مشترکہ جدوجہد تھی، کُچلنے کے لئے اور متعصب ہندوؤں نے مسلمانوں کی طاقت اور دین سے محبت کو ختم کرنے کے لئے دینِ اسلام، ملتِ اسلامیہ اور محسنِ انسانیت حضرت محمدؐ کی سیرتِ طیبہ کا ایک منظم سازش کے تحت مضحکہ اُڑانا شروع کیا۔
اس سازش کے تحت اخبارات میں آرٹیکلز’’ستیارتھ پرکاش‘‘ جیسی بدنامِ زمانہ کتاب اور آخر میں پرتاب لاہور کے ایڈیٹر مہاشا کرشنا جوآریہ سماج سوامی دیانند کا پیروکار تھا، نبی کریمؐ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کتاب رنگیلا رسول لکھ ڈالی۔
راج پال پبلشر نے نبی آخر الزمان حضرت محمدؐ کی شان کے خلاف مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا۔ جلسے، جلوس اور احتجاجی مظاہرے ہوئے، اخبارات نے اداریے لکھے، لیکن راج پال کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے اُسے تحفظ دیا گیا۔
مولوی نور الحق مرحوم کو راج پال کے خلاف اخبار مسلم آؤٹ لک میں لکھنے پر دو ماہ کی سزا اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہوا۔ عبدالعزیز اور اللہ بخش کو راج پال کے خلاف دو مختلف مقدمات میں سزا سنائی گئی۔
شاہی مسجد کے ایک بڑے اجتماع میں مولانا محمد علی جوہر نے خطاب کرتے ہوئے کہا: ’’میں کوئی وکیل یا بیرسٹر نہیں، قانون میں جو کچھ سیکھا ہے، وہ بار بار ملزم کی حیثیت سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر سیکھا ہے۔
میرا مشورہ یہی ہے کہ آئندہ فتنے کے سدِباب کے لئے اس قانون کو ہی بدلوا ڈالو اور تعزیرات ہند میں ایک مستقل دفعہ بھروا کر توہین بانیانِ مذاہب کو جرم قرار دیجئے۔ اب تک ایسی کوئی مستقل سزا آپ کے ملکی قانون میں نہیں‘‘۔
اگر عدالت میں راج پال کو سخت سزا دی جاتی تو فرقہ وارانہ منافرت نہ بڑھتی، لیکن1924ء میں راج پال کو محض چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
راج پال نے سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی، جہاں اُسے کنور دلیپ سنگھ مسیح کی عدالت میں بری کر دیا گیا۔ ان حالات میں مسلمانوں کے درمیان اضطراب کے جذبات پیدا ہوگئے اور وہ تقاضہء انصاف سے مایوس ہوگئے۔
غازی علم دین شہید، لاہور کے ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد طالع مند پیشے کے لحاظ سے ترکھان تھے۔ 1908ء میں اللہ تعالیٰ نے طالع مند کو بڑے بیٹے محمد دین کے بعد علم دین دیا۔ آپ کا آبائی گھر سیریانوالہ بازار رنگ محل میں واقع تھا۔ گھر کے نزدیک تاریخی چنیاں والی مسجد مولانا داؤد غزنوی کے پُرنور توحید و سنت کے وعظ اور انگریز مخالف حریت پسند تقاریر سے گونجتی رہتی تھی۔ کئی بار یہاں کے باسیوں نے انگریز سپاہیوں کو مولانا کو گرفتار کر کے لے جاتے ہوئے دیکھا۔
طالع مند نے چنیاں والی مسجد کے لئے لکڑی کا منبر اپنے ہاتھ سے بنایا۔ وہ کاروبار کے لئے گاہے بگاہے انبالہ، کوہاٹ اور دوسرے دور دراز مقامات پر جایا کرتے تھے۔ دہلی میں انہوں نے حضور نظام کی کوٹھی میں کام کر کے حُسنِ کارکردگی کی سند بھی حاصل کی۔
غازی علم دین کے بڑے بھائی محمد دین ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ریلوے میں ملازم ہوگئے اور جوان علم دین اپنے والد کے ساتھ ان کے کاروبار میں ہاتھ بٹانے لگ گئے۔
28 مارچ1929ء کو علم دین کی منگنی اپنے ماموں کی بیٹی سے ہوئی۔ راج پال کی سزا کی معافی کے بعد ایک احتجاجی جلسہ پنجاب خلافت کمیٹی کے تحت احاطہء شیخ عبدالرحیم میں منعقد ہوا۔ طالع مند اپنے دونوں بیٹوں محمد دین اور علم دین کے ساتھ اس جلسے میں حاضر تھا۔ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے مختصراً جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلے پر نکتہ چینی کی اور پھر مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے ایک رقت انگیز تقریر فرمائی، آپ نے کہا:’’آج کوئی روحانیت کی آنکھ سے دیکھنے والا ہو تو دیکھ سکتا ہے کہ حضرت رسول اکرمؐ اور ان کی ازواج مطہرات ہم مسلمانوں کی مائیں، لاہور کے مسلمانوں سے فریاد کر رہی ہیں کہ تمہارے شہر میں ہماری بے حُرمتی کی جا رہی ہے۔
اگر کچھ پاسِ رسالتؐ ہے تو ناموسِ رسالت کی حفاظت کرو‘‘۔ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی تقریر نے علم دین کو ایک منزل دکھا دی اور آپ نے ابورافع گستاخ کی طرح راج پال کو قتل کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا۔ 6 اپریل1929ء کو آپ نے اپنی بھابھی کو میٹھے چاول پکانے کا کہا۔ اپنے گھرانے کے ساتھ میٹھے چاول کھانے کے بعد آپ نے اپنی بھابھی سے چار آنے مانگے۔ ان کے دریافت کرنے پر آپ نے کہا کہ مجھے ضرورت ہے۔
علم دین گھر سے نکلے۔گمٹی بازار کے آغا رام کباڑیے کی دکان سے ایک چھری خریدی، انارکلی میں ہسپتال روڈ پر عشرت پبلشنگ ہاؤس کے سامنے راج پال کا دفتر تھا۔ راج پال کی حفاظت کے لئے انگریز سرکار نے پولیس گارڈ مہیا کئے ہوئے تھے۔
علم دین نے دکان میں داخل ہوتے ہی راج پال کے متعلق پوچھا۔ راج پال کے جواب دینے پر علم دین نے پلک جھپکنے میں چھری سے راج پال کے سینے میں کاری ضرب لگائی۔
راج پال کی موت کا یقین ہونے کے بعد وہ تسلی سے دکان سے باہر نکلے۔ باہر نکلنے پر دکان میں موجود دو ملازمین کورناتھ اور بھگت رام نے پکڑو پکڑو۔۔۔ کا شور مچایا۔ علم دین چیخ چیخ کر کہہ رہے تھے:’’ میں نے رسول اللہؐ کا بدلہ لے لیا، میں نے رسول اللہؐ کا بدلہ لے لیا‘‘۔
پولیس نے علم دین کو خون آلود کپڑوں اور ہاتھوں میں لگی خراشوں سمیت گرفتار کیا۔ آن کی آن میں یہ خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں ڈاکٹر نے تقریباً ایک درجن ضربات کی نشاندہی کی اور رپورٹ میں لکھا، موت کلیجے میں ضرب لگنے سے ہوئی۔
علم دین کے خلاف مقدمہ زیر دفعہ302 تعزیرات ہند باالزام قتل راج پال درج کیا گیا۔ استغاثہ کی طرف سے ایشر داس اور علم دین کی طرف سے بیرسٹر فرخ حسین، خواجہ فیروز الدین وکیل تھے، کیس سیشن کورٹ میں زیرِسماعت تھا۔
جج نے علم دین کو قتل راج پال میں 22 مئی کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ اس فیصلے کے چند روز بعد طالع مند بمبئی گئے اور وہاں کے نوجوان وکیل محمد علی جناحؒ سے ملے۔ محمد علی جناحؒ نے کسی وکیل کو وہاں بلانے کا کہا۔ طالع مند واپس آئے اور پھر بیرسٹر فرخ حسین بمبئی گئے اور محمد علی جناحؒ کو مقدمے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔
یوں15 جولائی کو علم دین کو سنائی جانے والی سزاء کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔ ہائی کورٹ کے جسٹس براڈوے اور جسٹس جانسن تھے۔اُنہوں نے اپیل کی سماعت کی۔ علم دین کی طرف سے وکیل صفائی محمد علی جناح تھے۔
ہائی کورٹ نے قائداعظم کے دلائل کو بھی قبول نہ کیا اور سزا قائم رکھی۔ لندن کی پریوی کونسل میں اپیل دائر کرائی گئی۔ 15 اکتوبر کو پریوی کونسل نے اپیل کو خارج کر دیا اور علم دین کی سزا برقرار رکھی۔
31 اکتوبر1929ء کے دن میانوالی جیل میں حُرمتِ رسولؐ پر قربان ہونے والے علم دین کو تختہء دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس دوران آپ نے وہاں موجود لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا::’’ میں نے ہی حُرمت رسولؐ کے لئے راج پال کو قتل کیا ہے۔
تم گواہ رہو کہ میں محبتِ رسولؐ میں کلمہء شہادت پڑھتا ہوا جان دے رہا ہوں‘‘۔ علم دین کو بنا غسل دئیے قیدیوں کے قبرستان میں ایک گڑھا کھود کر دفن کر دیا گیا۔ مسلمانوں کو اُن کی لاش مبارک نہ دی گئی۔ ایک وفد جو سر محمد شفیع، علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ ، میاں عبدالعزیز مالو اڈہ، مولانا غلام محی الدین قصوری پر مشتمل تھا، گورنر پنجاب سے ملا اور نعش کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور گورنر پنجاب کو لاش ملنے کی صورت میں لاہور شہر میں امن کی ضمانت دی۔ 13 نومبر کو غازی علم دین شہیدؒ کی میت دفن ہونے کے 13 دن بعد نکالی گئی اور لاہور لائی گئی۔
14 نومبر کو ساڑھے دس بجے کے قریب جنازہ اُٹھایا گیا اور آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو میانی صاحب قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ آپ کے جنازے میں محتاط اندازے کے مطابق5 لاکھ آدمیوں کا ٹھاٹھے مارتا سمندر تھا۔ اس وقت کل لاہور کی آبادی دو لاکھ سے بھی کم تھی۔
شمعِ رسالتؐ کے پروانے علم دین نے میانوالی جیل میں جو وصیتیں کیں، ان میں اپنے عزیز و اقارب کو تلقین کی کہ تم میں سے کوئی بھی مجھے رو کر نہ ملے۔ رشتے داروں کو تاکید کی کہ میرے پھانسی لگ جانے سے ان کے گناہ بخشے نہیں جائیں گے۔ وہ نماز قائم کریں۔
احکامِ شرعی کی پابندی کریں اور زکواۃ دیں۔ اُنہوں نے اپنی قبر کے متعلق ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ میری قبر کے چار کونوں میں گلاب کے چار گملے لگانا، قبر ننگی رکھنا تاکہ بارانِ رحمت کی بوندیں اس پر پڑتی رہیں۔ صندوق میں رکھ کر قبر نہ بنانا۔ مجھے سنت کے طریق پر دفن کرنا اور میری قبر پختہ نہ بنانا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں